67

کرونا کے ساتھ زندگی

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں کینیڈا نے اب کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔ زندگی اب رفتہ رفتہ اپنے معمول کی طرف کی لوٹ رہی ہے۔ ہمارے صوبے کے پریمئر ڈگ فورڈ نے صوبےکو تین فیززمیں کھولنے کااعلان کیا تھا, گو کہ ابھی ہم فیز تھری میں داخل نہیں ہوئے پھر بھی کافی حد تک معمولات زندگی بحال ہو گئے ہیں۔


مگر پہلے جیسا اب کچھ بھی نہیں رھا۔ یہ ایک نیو نارمل کا دور ہے جس کے ساتھ ایک لمبی اننگز کھیلنی ہے۔ باقی دنیا کی طرح صحت کے شعبہ کو یہاں بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔پوری دنیا کے ہیلتھ ورکرز کی طرح ہم بھی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں اور بلاشبہ احتیاط برتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ صرف ضروری مریضوں کو دیکھا جا رھا ہے اور کافی وزٹ اب ورچوئل وزٹ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔


ڈاکٹر مریض سے کی گئی بات چیت اور بھیجی گئی تصاویر کی مدد سے دوا تجویز کر رہے ہیں اور لیب کے لیے پہلے والا طریقہ نہیں اپنایا جارہا کہ جس میں بلڈ پریشر اور بخار نوٹ کرنے کے ساتھ پہلے چند بنیادی ٹیسٹ بھی لیے جاتے تھے۔ اب ڈائریکٹ فون پر رابطہ رکھا گیا ہے اور فون پر بات کرنے کے بعد بھی اگر ڈاکٹر کو لگتا ہے کہ مریض کو دیکھنا ضروری ہے تو کسی ایک طے شدہ وقت پر مریض کو ہسپتال بلا لیا جاتا ہے۔


بلاشبہ ایک نارمل روٹین سے ہٹ کر اس تبدیلی کو قبول کرنا مشکل ہے مگر تمام مجوزہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا لازمی بھی ہے۔ ہم صرف کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لیے باہر نکل رہے ہیں۔ سب دکانیں بند ہونے کے باوجود کورونا کا جراثیم منتقل ہورہا ہے۔ یہاں لوگ زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے کے عادی ہیں۔ پچھلے دنوں سُننے میں آیا تھا کہ ایک بلڈنگ کے 16 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے اور ان سب نے باہر سے کھانا منگوایا تھا۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ کوئی فوڈ ڈیلیوری کے لیے گیا اور وہ وائرس کا شکار ہوگیا اور پھر یہ وائرس کھانوں کے ڈبے سے پھیلتا چلا گیا۔ لوگ ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ اگر آپ نے کھانا گھر بیٹھے منگوایا ہے تو کھانا لینے کے بعد ہاتھ دھونا بھی لازمی ہے۔ ویسے عمومی طور پر لوگ یہاں احتیاط کررہے ہیں اور شاپنگ پلازہ و دیگر ایسی جگہوں پر 6، 6 فٹ کا فاصلہ بھی اختیار کر رہے ہیں۔


ہم اپنی سی احتیاط تو کر رہے ہیں لیکن کسی دوسرے کے بارے میں کچھ بھی یقین سے کہنا ممکن نہیں، اسی لیے صبح اٹھنے کے ساتھ ہی اگر ہلکا سا بھی گلا خراب ہو تو پہلا خیال کورونا وائرس کا آتا ہے۔ ایک ڈر اور خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ مجھ سمیت میرے دوستوں اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر لوگ بھی وائرس سے خائف نظر آتے ہیں۔


آج کلینک پر کام کرتے ہوئے جب میں مریض کی رپورٹ بنا رھا تھا تو یکدم چھینکیں اور گلا خراب ہوا۔ فی الفور آف کر کے ڈرائیو تھرو سینٹر میں جا کر اپنا سیمپل دیا۔ رپورٹ آنے میں اڑتالیس گھنٹے لگیں گے۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے ہم وطنوں کو کورونا کی بیماری سے بچانے کا جذبہ ہی فیلڈ میں ایسا کام کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اس کے بغیر کورونا کو شکست دینا ممکن ہی نہیں ہے۔
احتیاط ہی واحد علاج ہے۔ ۔ ۔ ڈاکٹر جاسم ارشاد

ڈاکٹر جاسم ارشاد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں