205

خود مختار اور با اختیار پولیس کیوں ضروری ہے؟

میرے خیال میں پاکستان میں پولیس کو جان بوجھ کر ناکام رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی رہی ہے جو کہ ابھی بھی جاری ہے۔پولیس کو مناسب فنڈ اس لئے نہیں دیے جاتے کہ کہیں پولیس آزاد اور خود مختار نہ ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں نظام انصاف کو بہتر بنانے کے لئے عدلیہ کی آزادی سے زیادہ پولیس کی آزادی اور خودمختاری ضروری ہے۔جب بھی کسی شہری کے ساتھ ظلم یا ناانصافی ہوتی ہے تو سب سے پہلے وہ پولیس کے پاس داد رسی کے لئے جاتا ہے۔ اگر پولیس اس کی داد رسی کر دے تو وہ ریاست اور ملک پر خوش ہوتا ہے جبکہ یہاں ہر مظلوم ریاست اور وطن سے شاکی ہے وجہ یہ کہ اس کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا ازالہ نہیں ہوتا۔ جب تھانہ اور عدالت انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوں تو ریاست کو کسی صورت کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ اس ملک کے تمام مسائل کا حل خود مختار اور بااختیار پولیس ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ملک کو محفوظ بنانا اور ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو وہ شاہراہ بااختیار اور خود مختار پولیس ہی ہے۔

ملک میں امن و امان قائم ہونے سے سرمایہ کاری آئے گی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور جب کاروبار میں اضافہ ہو گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، بے روزگاری ختم ہو گی، غیر ریاستی قوتوں، دہشت گرد تنظیموں اور جرائم پیشہ افراد کو افرادی قوت میسر نہیں آئے گی جس سے دنیا بھر میں ہمارے ملک کے خلاف پایا جانے والا منفی تاثر یکسر ختم نہ بھی ہو تو بہت حد تک کم ہو جائے گا۔ پاکستان اس وقت بھی فاننشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گِرے لسٹ میں ہے۔ جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہمارا ملک دہشت گردوں کی مالی اور افرادی معاونت کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ میری وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سے درخواست ہے کہ اگر آپ واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کریں اور پولیس کو تمام جائز اور ضروری فنڈ فراہم کریں۔ آپ ٹھیک ایک سال بعد نتائج میں خاطر خواہ فرق محسوس کریں گے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ جس طرح آرمی کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف کو تعینات کرتے ہیں بالکل اسی طرز پر صرف اور صرف صوبائی انسپکٹر جنرل آف پولیس کی تعیناتی کرے۔ اس کے علاوہ صوبہ میں پولیس کی تمام تعیناتیاں انسپکٹر جنرل اپنی مرضی سے کریں تو اس سے بہت زیادہ بہتری آئے گی۔اس سے حکومت کو صرف ایک بہترین اور ایماندار پولیس چیف لگانا ہو گا باقی اپنی ٹیم وہ خود لگا لے گا اور جس کو وہ لگانے اور تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہو گا اس سے کام بھی لے سکے گا۔جب آپ کی ساری ٹیم ہی کسی اور نے منتخب کی ہو تو نتائج آپ کے ویژن اور مرضی سے کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب انسپکٹر جنرل اپنی مرضی سے ریجنل پولیس آفیسر تعینات نہ کر سکے اور ریجنل پولیس آفیسر اپنی مرضی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعینات نہ کر سکے اسی طرح ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپنی مرضی کے ایس ایچ او تعینات نہ کرے تو نتائج خاک حاصل ہوں گے؟ اس نظام سے بہتری کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

جب ایک پولیس آفیسر کی تعیناتی کسی فرد نے کروائی ہو گی تو پولیس آفیسر ریاست اور عوام کے مفادات کی حفاظت کرنے کی بجائے اس فرد کے مفادات کا محافظ بن کر بیٹھ جائے گا اور اس طرح وہ فرد معاشرہ کا ناسور بن جائے گا۔ ظلم کرنے والے کسی نہ کسی سطح پر انتظامیہ پر اثر رکھتے ہیں ورنہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی فرد ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کرے۔ پولیس آفیسرز کے سامنے غریب اور مزدور لوگوں کو کوئی فرد لتر (جوتے) مار رہا ہو اور پولیس آفیسر پاس بیٹھ کر یہ ظلم کروا رہا ہو تو وہ ظلم ریاست کی سرپرستی اور مرضی سے ہو رہا ہے ایسے ظلم کے حکمران اور انتظامیہ بشمول ریاست برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے اور اسے اپنی عوام کو اولاد کی طرح رکھنا ہو گا ورنہ ریاست کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔ہم سب کو اس ریاست کو ماں جیسا بنانے کے لیے اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر بہتری کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہیے ورنہ حالات آپ سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ملک و قوم کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اپنا کرم و فضل کر کے اس کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں