103

کرونا وائرس سازش یا حقیقت

پہلے ہم نے کہا کہ یہ وبا صرف چین تک محدود ہے، پھر فرمایا کہ یہ حرام جانوروں کے کھانے سے ہوتی ہے، پھر دل کو تسلی دی کہ اِس سے بوڑھے اور بیمار ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بیماری یورپ پہنچی تو ہم نے طعنے دیے کہ بڑے ترقی یافتہ بنتے تھے اب بولو کیسی رہی! اُس کے بعد امریکہ کی باری آئی تو ہم نے پینترا بدلا کہ یہ ہم جنس پرستی کی سزا ہے۔

جب وبا ہمارے ملک میں پہنچی تو پہلا مریض دیکھنے کے لیے لوگ اسپتال کے باہر اکٹھے ہو گئے، جب پچاس مریض ہو گئے تو کہا کہ ہماری قوتِ مدافعت بہت بہتر ہے، ہزار مریض ہوئے تو ہم نے اذانیں دینا شروع کر دیں، دس ہزار ہوئے تو ہم نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ڈھنڈورا پیٹا۔
پھر کسی نے کہا کہ یہ وائرس تو دراصل امریکہ اور یورپ کی شیطانی ہے، کوئی بل گیٹس کے لتے لینے لگا تو کسی نے فائیو جی کھمبوں پر الزام دیا- کوئی بولا کہ یہ سب ڈرامہ بازی اور میڈیا کی سنسنی خیزی ہے، کچھ خرد مندوں نے یہ لطیف نکتہ بھی سمجھایا کہ ملیریا سے ہر سال اِس سے زیادہ بندے مرتے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا سو گھبرانے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی یہ غلغلہ بھی اٹھا کہ وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا۔

ایک موقع پر ہمارے بابے میدان میں آئے اور تتو تھمبو کرتے ہوئے پیشن گوئیاں کیں کہ پندرہ سے بیس دن میں یہ وائرس ختم ہو جائے گا، کسی فلسفی نے اِس میں انسانیت کی بھلائی تلاش کی اور کسی نے بسبیل ارتجال سائنس کا مذاق اڑایا۔
حقیقت بڑی تلخ ہے اور وہ یہ ہے کہ تادمِ تحریر ملک میں کورونا وائرس کے بیاسی ہزار سے زیادہ مریض ہو چکے ہیں اور پندرہ سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ مغربی ممالک کو دیے جانے والے طعنے اب کم ہو گئے ہیں اور ایسی وڈیوز بھی سامنے نہیں آ رہیں جن میں بندے یورپ کی گلیوں میں اذانیں دیتے پھر رہے ہوں۔ حرام جانوروں کو بھی معافی مل گئی ہے اور ہم جنس پرستوں کو بھی فی الحال ہم نے در گزر کر دیا ہے۔
روحانی بابے چُپ سادھ کر بیٹھ گئے ہیں اور اُن کے پیروکار سوچ رہے ہیں کہ اب کون سی کوڑی لائیں جن سے اِن ’اہلِ نظر‘ بابوں کا دفاع کیا جا سکے۔ سازشی تھیوریاں بھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں، فائیو جی کے کھمبوں کو اب کوئی آگ نہیں لگا رہا۔ گرمی اپنے جوبن پر ہے، سورج سوا نیزے پر ہے اور وائرس ہے کہ پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

سائنس کا مذاق اڑانے والے اب سرگوشیوں میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ بھائی وہ ویکسین کا کیا بنا۔ بیماریوں کے سائے میں پل کر جوان ہونے والے، جنہیں اپنی امیونٹی پر بہت ناز تھا، اب دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔

لہسن اور ادرک گھوٹ کے کھانے والے بھی بدمزا ہو رہے ہیں اور قہوے پینے والے بھی تشکیک کا شکار ہیں۔ جو مرد مجہول اِس وبا کو میڈیا کی’ہائپ‘ قرار دیتے تھے انہیں چُپ سی لگ گئی ہے کیونکہ اُن کا کوئی نہ کوئی جاننے والا، عزیز، دوست یارشتہ دار اِس بیماری سے نبرد آزما ہے۔ وہان سے پھیلنے والا وائرس امریکہ، یورپ سے ہوتا ہوا اب ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔ ’’میں خود بہت بڑا وائرس ہوں‘‘ جیسی شوخیاں اب ماند پڑ رہی ہیں!

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ابھی کتنے لوگ رہتے ہیں آپ کے سوشل سرکل میں جن کے حساب سے ابھی بھی یہ بیماری نہیں سازش ہے؟
اب تو ہوش کے ناخن لیں اور احتیاطی تدابیر پر پورا عمل کریں۔

پہلے بچ جاو پھر سازش کا پتا بھی لگا لینا
ندیم عباس بھٹی
مسقط سلطنت آف عمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں