53

امریکی شہروں میں کرفیو کی خلاف ورزی اور لوٹ مار

امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں آٹھویں روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور مختلف شہروں میں کرفیو کی خلاف ورزی اور لوٹ مار کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہزاروں امریکی شہری منگل کو بھی مختلف شہروں میں سڑکوں پر جمع ہوئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ہیوسٹن میں واقع جارج فلائیڈ کی رہائش گاہ کے باہر بھی ہزاروں افراد اکھٹے ہوئے اور اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس کے باہر پارک میں جمع ہوئے جہاں سے پیر کو پولیس نے اُنہیں آنسو گیس کی شیلنگ کر کے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ احتجاج کے دوران امریکہ کی ریزرو فوج ‘نیشنل گارڈ’ کے دستوں نے واشنگٹن ڈی سی میں واقع ‘لنکن میموریل’ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا جہاں مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ لاس اینجلس، فلاڈیلفیا، اٹلانٹا اور سیاٹل میں بھی ریلیوں میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نیویارک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے دوران لوٹ مار کے کئی واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

دن کے اوقات میں نیویارک میں مظاہرین نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ تاہم بعض علاقوں میں سورج ڈھلتے ہی لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور املاک کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے نافذ ہونے والے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بارکلے سینٹر سے بروکلن برج تک مارچ کیا۔ اس دوران پولیس کے ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے ہوئے مظاہرین کو آگے نہ بڑھنے کی ہدایت کرتے رہے۔ مین ہٹن برج پر موجود مظاہرین پل کے داخلی راستے پر جمع ہوئے اور پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر نعرے بازی کرتے رہے کہ “ہمیں کچل دو، ہمیں کچل دو۔” نیویارک میں پیش آنے والے واقعات پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گورنر اینڈریو کومو کو چاہیے کہ وہ فسادات کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں