93

دعا اور احتیاط

اس وقت دنیا کو کرونا وائرس کی صورت میں اتنی بڑی آزمائش کا سامنا ہے کہ تصور کرنا مشکل ہے۔ وائرس ایسا کہ جس کا علاج تک معلوم نہیں اور وبائی اس قدر کے ہاتھ ملانے سے بھی ایک سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس وائرس کے پیچھے آخر کوئی نہ کوئی حکمت تو ضرور ہو گی۔ کیا یہ کشمیر کے مظلوموں کی دعاوں اور آہوں کا نتیجہ تو نہیں ؟ کیا یہ دنیا کو سبق تو نہیں دیا گیا کہ اللہ تعالی جب بھی چاہے اس دنیا کے تمام انسانوں کو بے بس کر دیتا ہے۔ ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور توبہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ رہنے والے انسانوں کے حقوق پورے کرنے چاہئے تاکہ یہ دنیا دوبارہ امن و امان کا منظر پیش کرے۔ اس وقت دنیا کی آبادی کا بہت بڑا حصہ ڈر اور خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔ ڈر انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے، انسان کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرتا ہے۔

لاک ڈاون کی وجہ سے مزدور دار طبقہ روز مرہ زندگی کے معاملات چلانے سے بھی قاصر ہے آگے بڑھ کر ان کے ساتھ تعاون کریں اور ان بے سہاروں کا سہارا بنیں یہی سبق اور نفع والا کام ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں سربراہ مملکت سے لے کر عام شہری تک سب کے سب کرونا وائرس کے خطرہ میں میں مبتلا ہیں۔ اس خطرہ سے احتیاط اور آگاہی کے ذریعہ ہی بچا جا سکتا ہے۔ اپنے اپنے گھروں تک محدود رہیں اور سوشل بائیکاٹ کریں۔ آپ اگر کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو ملتے ہیں تو آپ کرئیر بن کر وائرس کو آگے سے آگے لے جانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس وائرس کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے حکومت وقت کی ہدایت کو مکمل طور قبول کریں اور ان پر اپنے حلقہ احباب میں موجود دیگر افراد تک بھی یہ پیغام پہنچائیں۔ ہم جس وقت میل جول کم کریں گے تو وائرس کا پھیلاؤ کم سے کم ہو گا۔  ہماری ریاست کے پاس چین ، اٹلی ، سپین، انگلینڈ اور امریکہ جیسے وسائل نہیں ہیں۔ اگر یہاں وائرس پھیلتا ہے تو اس کی تباہی اور بربادی کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ احتیاط سے بڑا کوئی علاج نہیں۔ نماز ادا کریں با وضو رہیں اور اللہ تعالی پر توکل رکھیں۔ اپنے آپ کو بنا بیماری کے ہی بیمار نا کر لیں۔ اللہ تعالی ہم سب پر اپنا فضل و کرم کریں۔ میں اپنے طور پر ذاتی حثیت میں تھوڑا بہت ویلفئیر کا کام کر رہا ہوں دیگر بہت سارے دوست بھی لگے ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس نے ہم کو ایک قوم بنایا ہے۔ مگر اس تکلیف دہ اور قیامت خیز وقت میں بھی ہمارے معاشرہ کے بعض گھٹیا اور بد تہذیب عناصر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے باز نہیں آ رہے۔ ان کے خلاف اقدامات کی ضرورت ہے۔ پوری انسانیت پر بہت مشکل وقت ہے۔ اس وقت ایثار و قربانی کرنے کا وقت ہے ناکہ مشکلات میں پھنسے لوگوں کو مزید لوٹنے کا وقت۔

جو حالات نظر آ رہے ہیں ان کے پیش نظر شاید اس سال بیت اللہ کا حج بھی نہ ہو سکے۔ ہم کو اس وقت اپنے معاشرہ میں موجود غریب اور مسکین لوگوں کا سہارا بننا ہے۔ امید دلانی ہے اور ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے۔ اس طرح وہ بھی معاشرہ کے کارآمد شہری رہے گے ورنہ دوسری صورت میں ایسے لوگ معاشرہ کے لئے آزمائش بن جاتے ہیں۔ میں اس مشکل وقت میں کرونا وائرس سے متاثرہ تمام ممالک اور خاص طور پر اپنے پیارے وطن پاکستان کے ساتھ ساتھ اس خطرہ سے زیادہ متاثر دیگر ممالک ایران، اٹلی، سپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں موجود تمام لوگوں کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی کرہ ارض پر موجود تمام انسانیت کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اپنے کرم و فضل والا معاملہ کرتے ہوئے کرونا وائرس سے نجات دلائے اور آزمائش کو ختم کرے۔ آمین آپ سب لوگوں نے بھی اپنے دل و دماغ کو حاضر کر کے اللہ تعالی سے دعا کرنی ہے کہ اللہ تعالی اس وبا اور آزمائش سے معافی دے۔آمین  دعا کرنے والے کا اخلاص ہی دعا کے قبول ہونے کی گارنٹی ہوتا ہے۔ ہم کو اپنے اندر کی منافقت کو ختم کر کے دعا کرنی ہے۔ اللہ تعالی آسانی فرمائے گا۔ جزاک اللہ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں