188

برداشت اور رواداری سے مرحوم ہوتے رویے

گزشتہ روز 21 رمضان المبارک کو حضرت علی رض کے یوم شہادت کے موقع پر کراچی میں نکالے گئے اہل تشیع مسلک کے جلوس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جلوس کیوں نکلا گیا؟ اس کے پیچھے مثالیں یوں دی جاتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران میں عبادت گاہیں بند ہیں تو یہاں پاکستان میں یہ جلوس بند کیوں نہیں کیے جاتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں آدھا تیتر آدھا بیٹر کی بجائے لاک ڈاؤن کا مطلب لاک ڈاؤن ہی ہے اور اس کی کوئی بھی بندہ خلاف ورزی نہیں کرتا دوسری صورت ہمارے یہاں لاک ڈاؤن کی پاسداری کون کر رہا ہے؟ میرے خیال میں زیادہ بہتر یہی ہوتا کہ جلوس نہ نکالا جاتا لیکن اگر نکالا گیا ہے تو بھی کوئی حیرانگی کی بات نہیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باوجود جنازوں میں ایک بہت بڑی تعداد شرکت کرتی رہی ہے۔ ایسے مواقع پر انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود مداخلت اس لئے نہیں کرتی کے افسوس اور غم کا عالم ہوتا ہے ایسی صورت میں لوگوں کو روکا جائے تو ان میں ریاست کے خلاف نفرت پھیلتی ہے۔ اسی نقطہ نظر کو مد نظر رکھ کر سوچیں کہ جس طرح انتظامیہ کی مسلسل ہدایت کے باوجود کچھ لوگ نماز ادا کرنے کے لئے مسلسل مسجد جا رہے ہیں اسی طرح اہل تشیع مسلک کی ایک چھوٹی سی تعداد نے ایک شہر میں جلوس نکالا ہے جس کو ہر کوئی حدف تنقید بنا کر ثواب درین حاصل کر رہا ہے جو کہ کسی صورت اچھا اور مثبت عمل نہیں۔

تنقید کرنا اور نفرت پھیلانا تو سب سے آسان کام ہے۔ پوری ایمانداری اور دیانت داری سے بتائیں کہ کیا ہمارے یہاں مساجد میں محفلیں نہیں ہو رہی ، تراویح نہیں پڑھی جا رہی، لوگ فوتیدگیوں پر جنازے ادا نہیں کر رہے ، فاتحہ نہیں پڑھ رہے، منڈی اور بازار نہیں چل رہے؟ اگر حضرت علی المرتضیٰ رض کے یومِ شہادت پر کچھ لوگوں نے جلوس نکالا ہے تو اتنی حیرانگی کیوں ہے؟

کیا اہل تشیع مسلک والوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے اور افسوس کرنے کی بھی اجازت نہیں ؟ مذہبی رواداری کو فروغ دیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ شدت پسند صرف اور صرف دھماکے کرنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والے بھی شدت پسند اور انتہا پسند ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو جوڑنے کے پیغام دیں نفرت پھیلانا تو کام ہی کوئی نہیں۔ ہمارے یہاں نفرت پھیلائی جا رہی ہے جو کہ معاشرہ کا ناسور ہے۔ نفرت ملک و قوم کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس لئے مہربانی فرمائیں اگر محبت ، امن و رواداری کا پیغام نہیں دے سکتے تو نفرت پھیلانا بھی بند کر دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم کو راہ ہدایت نصیب فرمائے ، محبتیں اور آسانیاں بانٹنے والا اور نفرتوں کو ختم کرنے والا بنائے۔ آمین

نوٹ: اس تحریر کی بنا پر میرا عقیدہ اور ایمان ماپنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر کہیں ناانصافی ہو رہی ہو تو نتائج کی پروا کیے بغیر اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ معاشرہ میں انصاف کا بول بالا ہو۔ تحریر چودھری عمران اشرف 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں