82

جرنیلی لوٹ مار

جنرل پرویز مشرف نے صدارت سے مستعفی ہونے سے پہلے پنجاب میں اربوں روپے مالیت کی آٹھ سو ایکڑ کے لگ بھگ زرعی زمین اپنے گھریلو ملازمین اور ان پٹواریوں اور ضلع افسروں کو دینے کی منظوری دے دی تھی جنہوں نے مشرف دور میں کھربوں روپے مالیت کی ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین ڈھونڈ ڈھونڈ کر فوجی حکومت کے حوالے کی تھی اور جسے مشرف نے اپنے پسندیدہ فوجی افسران میں اندھا دھند تقسیم کیا تھا۔ مشرف کے جانے کے بعد شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلی بنے تو انہوں نے اپنی سابقہ حکومت گرائے جانے کے غصے کی وجہ سے یہ زمینیں دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن عثمان بزدار نے کمال پھرتی کا ثبوت دیتے ہوئے ، ان تمام لوگوں کو مشرف کی تجویز کردہ زمینیں الاٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

فوجی افسران کو سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کرنے کی ابتداء کا سہرا پاکستانی فوج کے جد امجد جنرل ایوب خان کے سر جاتا ہے، موصوف کے جسم میں حکومت پر قبضہ کرنے کا ایک ایسا کیڑا پیدا ہوا تھا جو ان سے ہوتا ہوا جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف تک پہنچ گیا، آجکل یہ کیڑا موجودہ جرنیلوں کے جسم میں بھی بدستور موجود ہے اور کسی بڑی تبدیلی نہ آنے کی صورت میں تاقیامت آنے والے جرنیلوں میں بھی منتقل ہوتا رہے گا، یہ علیحدہ بات ہے کہ موجودہ بین الاقوامی حالات میں پاکستانی جرنیل حکومت پر قبضہ کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ انہیں ہلہ شیری دینے والا امریکہ آجکل خود پھنسا ہوا ہے، امریکی آشیرواد کے بغیر دنیا کے کسی بھی ملک میں مارشل لاء نہیں لگ سکتا، اگر ایسا ہوجائے تو امریکہ بہادر اس ملک پر ایسی ایسی پابندیاں لگا دیتا ہے کہ اس ملک کی حکومت اور عوام کیلئے سانس لینا دوبھر  ہوجاتا ہے۔  پاکستانی جرنیلوں نے مجبوری کے عالم میں کچھ سالوں سے پاکستانی حکومت کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، دنیا کی نظر میں جمہوری حکومت چل رہی ہوتی ہے لیکن پس پردہ فوج اپنے مقاصد بلا روک ٹوک حاصل کررہی ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش بے سروسامانی کے عالم میں ہمارے مجاہد جرنیلوں سے آزاد ہو کر ترقی کی بلندیوں کی طرف گامزن ہے، ہر شعبہ میں بنگلہ دیش پاکستان سے آگے ہے سوائے آئی ٹی کے شعبہ میں، جہاں پاکستانی ایکسپورٹ پانچ ارب ڈالر سالانہ ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کی ایک ارب ڈالر سالانہ ہیں، بنگلہ دیش ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ اس فرق کو بھی ختم کردے اور اسکی محنت سے لگ رہا ہے وہ وقت دور نہیں ہے جب بنگلہ دیش آئی ٹی کی صنعت میں بھی پاکستان سے آگے نکل جائے گا۔

پاکستانی آبادی اکیس کڑور جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی سولہ کڑور ہے۔ پاکستانی جی ڈی پی 305 ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کا 250 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی فی کس سالانہ اِنکم 1651 ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کی  1751 ڈالر ہے۔ پاکستان کا کل قرضہ دو کھرب اٹھارہ ارب ڈالرز ہے جبکہ بنگلہ دیش کا ایک کھرب اٹھتّر ارب ڈالرز ہے۔

پاکستانی ایکسپورٹس 25 ارب ڈالرز جبکہ بنگلہ دیش کی 37 ارب ڈالرز ہے۔ پاکستانی امپورٹس 56 ارب ڈالرز جبکہ بنگلہ دیش کی 43 ارب ڈالرز ہے۔ یہاں ہمیں خوش ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کسی ملک کی ترقی کیلئے اسکی ایکسپورٹس کا امپورٹس سے زیادہ ہونا ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ بالکل الٹ ہے۔

پاکستانی فارن کرنسی ذخائر 16 ارب ڈالرز جبکہ بنگلہ دیش کے 43 ارب ڈالرز ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک بنگالی ٹکہ تقریباً دو پاکستانی روپے کے برابر پہنچ گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی ترقی کرنے کی وجہ اسکی فوج کا حکومت کے نیچے کام کرنا اور بنگلہ دیشی سیاستدانوں کا اپنے ذاتی مفاد کے ساتھ ساتھ ملکی مفاد کو بھی مدنظر رکھنا ہے، جبکہ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ اسکے جرنیلوں کا حکومتی کاموں میں زیادہ عمل دخل اور پاکستانی سیاستدانوں کا اپنی ذاتی کرپشن کو ملکی مفاد پر ترجیع دینا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اس وقت سیکیورٹی مسائل میں گھرا ہوا ہے اور فوج بےانتہاقربانیاں دے کر پاکستان کی حفاظت کررہی ہے، لیکن ان قربانیوں کی آڑ میں پاکستانی جرنیل اور پاکستانی سیاستدان دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹ کر کھا بھی رہے ہیں، اگر آج پاکستانی سیاستدان اور فوجی جرنیل ایماندار بن جائیں تو پاکستان فوری طور پر ترقی کی طرف گامزن ہوجائے گا اور خطے میں اقتصادی طاقت بن کر ابھرے گا، ہم رمضان میں روزہ رکھ کر یہ دعا ہی کرسکتے ہیں، اللہ ہماری دعائیں قبول فرمائے اور تمام انسانیت کو کرونا کی وبا سے محفوظ رکھے آمین!

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں