142

کرونانہیں بے ایمانی وائرس سے ڈریئے

مرناہے توپھرڈرناکیا۔۔؟بحیثیت مسلمان ہمارایہ ایمان اورعقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمیں مرناہی ہے۔اس دنیامیں کوئی بھی ذی روح ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آیا۔باقیات تورہ جاتی ہیں لیکن کوئی ذی روح اس مٹی کے اندراورباہرہمیشہ کے لئے باقی نہیں رہتا۔ہمیشہ رہنے والی ذات صرف ایک اللہ کی ہے اوراسی رب کے حکم سے تو یہ دنیاقائم ہے۔اس سے پہلے بھی جوانسان دنیامیں آئے ۔ایک نہ ایک دن وہ پھرواپس گئے۔اب بھی جوانسان اس دنیامیں آرہے ہیں یاقیامت تک جوآئیں گے وہ بھی بلاکسی شک وشبے کے آخرایک نہ ایک دن ضرور واپس پلٹیں گے۔

موت نہ صرف زندگی کادوسرانام ہے بلکہ یہ دونوں آپس میں لازم وملزوم بھی ہیں ۔کوئی بھی چیزجس کے اندرروح ہو اسے موت نہ آئے یہ کبھی ہونہیں سکتا۔اللہ کی آخری کتاب جوتمام انبیاء کے سردارمحمدمصطفی احمدمجتبیٰﷺ پرنازل ہوئی قرآن مجیدفرقان حمیدمیں یہ واضح طورپرارشادفرمایاگیاہے کہ ہرذی روح نے موت کاذائقہ چکھناہے۔اسلامی تعلیمات سے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھتاہے کہ کسی بھی ذی روح کواس وقت تک موت نہیں آتی جب تک اس کارزق مکمل نہ ہوجائے۔ایک دانہ بھی کسی کاباقی ہوتوتب تک اسے موت چھوبھی نہیں سکتی۔

جب دانہ پانی ختم ہوپھرایک سیکنڈاورلمحے کی بھی مہلت نہیں ملتی۔اسی لئے تو کہاجاتاہے کہ جورات قبرمیں آنی ہے وہ آکرہی رہے گی ۔دنیاکاکوئی صدر،وزیراعظم اوربادشاہ بھی اسے کبھی ٹال نہیں سکتا۔روئے زمین پربسنے والے انسان جب سرکشی میں بہت دورنکل جاتے ہیں توپھراللہ تعالیٰ انہیں اپنی قدرت کے کچھ جوہردکھاناشروع کردیتے ہیں ۔ چین سے جنم لینے والاکروناوائرس بھی اللہ کی قدرتوں میں سے ایک قدرت اورصراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے انسانوں کے لئے رب کی طرف سے ایک وارننگ ہے۔سپرپاورکے زعم میں مبتلاگورے اورگوریلے اس خوش فہمی میں بہت آگے نکل گئے تھے کہ نعوذبااللہ ان سے بڑھ کراس زمین پرسپرپاوراوران سے طاقتورکوئی اور نہیں۔ یہ لوگ سرکشی میں بھی اس قدرڈوب گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جوچیزیں انسانیت کی بقاء کے لئے خطرناک اورحرام قراردی تھیں انہوں نے انہیں اپنی مرعوب عذاکے طورپراپنالیاتھا۔

سور،کتے،گدھے،بلیاں،سانپ،مگرمچھ،چوہے اورکیڑے مکوڑے کھانے والے بھی بھلازندہ رہ سکتے ہیں ۔۔؟دنیا تو چین سے اٹھنے والے اس وائرس کوکرونا کا نام دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ کوئی وائرس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کاایک ایساعذاب ہے جوآج کے انسانوں پران کی سرکشی کی وجہ سے آیاہے۔گورے اورگوریلے تویہ سمجھ رہے تھے کہ دنیاکایہ نظام کہیں ان کی مشینری اورٹیکنالوجی کے بل بوتے پرچل رہاہے۔گاڑیوں،ٹیلی ویژن،موبائل اورجہازکوریموٹ کنٹرول پرلانے والوں کایہ خیال تھاکہ وہ دنیاکوبھی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلادیں گے یاقابوکرلیں گے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ تھاکہ اوپروالے کی قدرت کے سامنے ان کی یہ ظاہری طاقت،سائنس،ٹیکنالوجی اوریہ جدید مشینریاں پانی میں بال کے برابربھی نہیں ۔اس عظیم رب نے جب اپنی قدرت کی ہلکی سی جھلک دکھائی توچین سے امریکہ اوربرطانیہ سے افریقہ تک سارے گورے اورگوریلے پھر ایک لمحے میں ہل کررہ گئے۔

کل تک دنیاکوانگلی کے ایک اشارے پرچلانے کے خواب دیکھنے والی ساری قوتیں اکٹھی ہوئیں لیکن پھربھی وہ اس وائرس کاکوئی علاج دریافت نہیں کرسکی۔چین میں اب تک اس وائرس سے سینکڑوں افرادمراورہزاروں متاثرہوچکے ہیں ۔یہ وائرس اٹلی،ایران اورافغانستان سمیت کئی ممالک میں پھیل چکاہے۔گاڑی،ٹیلی ویژن،موبائل اورجہازکوریموٹ کنٹرول پرلانے والے ایڑی چوٹی کازورلگارہے ہیں مگروہ اس وائرس کاراستہ روکنے میں بری طرح ناکام ہورہے ہیں ۔اس وائرس کے سامنے آج جوبھی بندھ باندھاجارہاہے وہ ٹوٹتاجارہاہے۔یہ وائرس اب پاکستان بھی پہنچ آیاہے۔ملک میں اس وائرس کے آنے سے ہرشہری میں تشویش بجاکیونکہ اللہ کے ہرعذاب سے ہمیں ڈرنااوربچناچاہیئے لیکن محض عوام میں خوف وہراس پھیلانے اورچیخ وپکارکرنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بحیثیت مسلمان جس طرح ہمارایہ ایمان اورعقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمیں مرناہی ہے اورساتھ یہ جس طرح ہمارا خداپریہ یقین ہے کہ جب تک ہمارادانہ پانی ختم نہیں ہوگاتواس وقت تک ہمیں موت بھی نہیں آئیگی۔ان اٹل حقائق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اس کروناوائرس سے ڈرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرناچاہیئے۔اس وائرس کوجس نے پیداکیاوہی ذات اورطاقت ہی اس وائرس سے ہمیں بچاسکتی ہے۔دنیاوی طاقت،جدیدسائنس،ٹیکنالوجی اورمشینریوں کے ذریعے اگراس وائرس سے بچناممکن ہوتاتوچینی شہری اتنی بڑی تعدادمیں اس کاشکارنہ ہوتے۔یہ وائرس خطرناک ہوگاہم یہ نہیں کہتے کہ یہ خطرناک نہیں لیکن یہ ضرورکہتے ہیں کہ بے ایمانی وسرکشی کے وائرس سے یہ ہرگززیادہ خطرناک اورتباہ کن نہیں ۔بے ایمانی اورسرکشی کے وائرس سے قوموں پرقومیں اورملکوں کے ملک تباہ اوربربادہوجاتے ہیں ۔دنیاکی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔

اس سے پہلے جوبھی قومیں اورلوگ بے ایمانی اورسرکشی میں حدسے گزرگئے ۔ان کاانجام آخرکروناسے بھی خطرناک اورخوفناک کسی وائرس سے ہوا۔اللہ سامنے آکرتوکسی کوکوئی ڈنڈانہیں مارتا۔اس طرح کے عذاب اوروائرس کے ذریعے سرکشوں اوربے ایمانوں کوان کے کئے کی سزاملتی ہے۔اسی طرح کے وائرس،آزمائش اورعذابوں سے بچنے کے طورطریقے ہمیں چودہ سوسال پہلے اللہ کے آخری پیغمبرﷺنے بتادیئے ہیں۔اس طرح کے یہ کرونامروناوائرس دراصل بے ایمانی کے خطرناک وائرس سے جنم لیتے ہیں ۔بحیثیت مسلمان ہماراظاہراورباطن اگر ٹھیک ہے توہمیں کسی وائرس شائرس سے نہیں ڈرناچاہیئے بلکہ اپنے رب کاشکربجالاناچاہیئے۔لیکن اگرہم پہلے ہی بے ایمانی کے وائرس میں مبتلاہیں توپھرہمیں اپنی فکرضرورکرنی چاہیئے۔

یہ وائرس سرکشوں اوربے ایمانوں کیلئے اللہ کاایک عذاب اورہم مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش اوروارننگ ہے۔ہم انسان بذات خودکچھ نہیں ۔ہم اپنی مرضی اورمنشاء کے مطابق کچھ نہیں کرسکتے۔وہی ہوتاہے جومنظورخداہوتاہے۔بیماری اوروباء سے بچائوکے لئے احتیاطی تدابیربھی اسلامی تعلیمات کاحصہ لیکن احتیاطی تدابیرکے ساتھ ہمیں اس طرح کی بیماریوں،وباء،آزمائش اورعذابوں کے اسباب کے بارے میں بھی نہ صرف جاننااور سوچناہوگابلکہ ان کے سدباب کے لئے بھی سچے دل سے کچھ کرنا ہوگا۔کروناوائرس سے آج دنیاخوفزدہ اورہمیں بھی حدسے زیادہ ڈرلگ رہاہے لیکن کیا۔۔؟ظلم ،کفر، چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ، غیبت، منافقت، بہتان والزام تراشی، بغض، حسد، سود، حرام، دوسروں کی حق تلفی ،ریاکاری اورشرک جوکروناسے بھی بڑے اورخطرناک وائرس ہیں ان سے کبھی ہمیں ڈرلگا۔۔؟یاان خطرناک وائرس سے بچائوکے بارے میں ہم نے کبھی سوچا۔۔؟سرسے پائوں تک ہمارے جسموں میں توپہلے سے بغض، حسد، سود، حرام، چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ، غیبت اور منافقت کے بڑے بڑے وائرس رگ رگ میں سرایت کرچکے ہیں۔

ان کے سامنے تویہ کروناکچھ بھی نہیں ۔ کروناوائرس توصرف ایک جان جاتی ہے مگرہم جن وائرس کی زدمیں ہیں وہ توجان کے ساتھ دونوں جہاں بھی چھین لیتے ہیں ۔اس لئے ہمیں کروناوائرس سے بچائوکے ساتھ ان دوسرے اورمہلک وائرس سے بھی خودکوبچانے کے لئے فوری حفاظتی تدابیراختیاراور اقدامات اٹھانے ہونگے۔ ہم نے اگران خطرناک وائرس اوربیماریوں کواپنے جسموں سے دورنہ کیاتوپھردنیاکی کوئی طاقت ہمیں بھی کروناوائرس سے نہیں بچاسکے گی۔کروناسے بچنے کے لئے پہلے بے ایمانی وائرس سے بچناازحدضروری ہے۔ اس لئے ہمیں کروناوائرس کی بجائے بے ایمانی وائرس سے ڈرنااورہمہ وقت خوف سے لرزناچاہیئے کیونکہ اس وائرس سے دنیااورآخرت دونوں خراب ہونے کاخدشہ اوراندیشہ ہے۔ اللہ کریم ہمیں کروناسمیت ہرقسم کے خطرناک وائرس اورموذی امراض سے محفوظ رکھے اورہم سب کی حفاظت فرمائے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں