116

آب حیات

تُو اپنے مدار میں موجود جِن نفُوس کا وہ وزن بھی اُٹھالے جو نہ تُجھ پر فرض ہے نہ واجِب تو اُن نفُوس کا خِضر تُو ہی تو ہے۔ گر تُو خضر ہے تو کیسے ممکن ہے اضافی زندگی نہ پائے۔ تیرا وہ اخلاص جِس نے تُجھے اضافی بوجھ اُٹھانے پر مائل کیا وہ آبِ حیات نہیں تو کیا ہے۔ یہ اخلاص ہی تو ہے جو موت سے بے نیاز اور بے خوف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تُو جب موت سے بے نیازی والا یہ آبِ حیات پی لے تو پھر جسم سے تیری ڈور جُڑے رہنے یا کٹ جانے سے تیرے اخلاص کا تسلسُل کون روکے گا۔ اخلاص کو جسم کی موت بھی خِدمت میں ڈھلنے سے کیسے روکے گی


خضرؑ بھی تو عام لشکریوں جیسا ایک لشکری ہی تھا، اپنے ساتھیوں کی زندگی بچانے کو پانی ڈھونڈنے کے دوران اُسکے بے غرض اخلاص کی حِدّت نے ہی تو اُسےاُس زندگی کا پتہ دیا جو جسم اور زماں و مکاں سے بے نیاز ہے۔


زیادہ نہیں تو چند کا خضر بننا تو تیری بھی خواہش ہونی ہی چاہیے۔ مان لے تیرے لیے بھی خضرؑ کی طرح اُتنی ہی زندگی لکھی ہے جتنی زندگی تُو بانٹنا چاہے۔۔۔ ڈاکٹر جاسم ارشاد چٹھہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں