263

وہ رستے ترک کرتا ہوں وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں

وہ رستے ترک کرتا ہوں وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں
جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو
بھنور میں ڈوب جاتا ہوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ہوں

مجھے مانگے ہوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں
میں سورج کے گلے پڑتا ہوں بادل چھوڑ دیتا ہوں

تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا
جسے میں چھوڑتا ہوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

گلوں سے جب نہیں بنتی تو ان سے جن کو نسبت ہو
وہ سارے تتلیاں جگنو عنادل چھوڑ دیتا ہوں

میری چاہت کی در پردہ بھی گر تذلیل کر دیں جو
وہ غازے بھول جاتا ہوں وہ کاجل چھوڑ دیتا ہوں

میری خوابوں سے نفرت کا یہ بزمی اب تو عالم ہے
میں سوتا ہی نہیں آنکھوں کو بوجھل چھوڑ دیتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں