133

مقصد حیات

یہ تو میں جانتا ہُوں کہ خالِق کی پہچان کا راستہ اپنی ہی چھلنی سے نِکلے گا لیکِن کیا کیجیے اپنی مُکمّل شناخت بھی تو نسلوں کی تلاشِ مُسلسل کی مُتقاضی محسُوس ہوتی ہے۔ میرے لیے یہ سمجھنا بھی مُشکل ہے کہ جب ایک طرف خالِق اپنی پہچان کروانے کے لیے تخلیق کا راستہ چُنتا ہے تو پھر اُس نےاپنی معرفت کی کڑیاں صدیوں کے فاصلوں کے بیچ کیوں بکھیر دیں۔ میں یہ بھی سمجھنے سے قاصِر ہُوں کہ جب میری تخلیق کی وجہ ہی معرفتِ الٰہی تھا تو میرے راستے میں میرا راستہ کھوٹا کرنےکا سامان کیوں رکھ دیا گیا۔ کون اِنکار کر سکتا ہے کہ اس سفر کی دِلکش بھُول بھُلیّاں بھی تو نسلوں کو اُنکا مقصد بھُلا کر مشغُول رکھنے کی صلاحیّت رکھتی ہیں۔ 

یہ تو طے ہے کہ ہر نئے دور کے لوگ اُسکی صفات کا کوئی نہ کوئی سُراغ پا ہی لیتے ہیں شاید معرفتِ الٰہی کا پہلا زینہ ہی سینکڑوں نسلوں کے بتدریج ذہنی ارتقا سے مشروط تھا۔ میں جانتا ہُوں ابھی میری اگلی نسلوں کو اپنی صلاحیّتوں کو کائنات کے مشرقین اور مغربین کی تسخیر کے پیمانے پر آزما کر اپنی معرفت کا سفر مُکمل کرنا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہیں میں نے اپنی فطری جلدبازی کے زیرِ اثر ہزاروں سال پہلے پیدا ہونا چُننے کی غلطی نہ کر لی ہو۔ 

جانتا ہُوں میرے برتن کی فطری گہرائی میرے مطلُوب کے حُجم کے مُقابلے میں بہت ہی کم ہے پر میری خواہِش کونسی غیرفطری ہے۔ خواہش پیدا کرنے والا تو پہلے ہی جانتا تھا کہ میرا مقصد ہزاروں نسلوں کی کھوج کا مُتقاضی ہے اُس نے پھر بھی یہ خواہِش میری فطرت میں رکھی ہے تو یقیناََ میرے لیے اپنی خواہِش پُوری کرنے کا کوئی ایسا راستہ بھی رکھا ہوگا جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ میں تو آنکھوں کی قُربانی بھی دے دُوں کوئی رہبر ملے تب نا۔ 

اگر ایسا کوئی راستہ موجُود ہی نہیں اور میری انفرادی تخلیق کا مقصد فقط اپنی اگلی نسلوں کے اُن افراد کی پیدائیش کا وسیلہ بننا تھا جو اپنی معرفت حاصِل کر کے خُود کو معرفتِ اِلٰہی کے پرتو کے حُصول کے قابِل ثابِت کریں گے تو میں اِس دُنیا میں آنے کے اپنے فیصلے پر ناخُوش ہُوں۔ 

ٹھیک ہے اِس جِسم سے نکلتے ہی میں زماں و مکاں کی قید سے آزاد ہو جاؤں گا اور تب شاید میرے مطلُوب کے راستے میں حائل نسلوں کے فاصلے کی شرط غیر ضرُوری ہوجائے اور میں اپنا مقصد پا لُوں لیکن اگر میرا مقصد جسم سے باہِر ہو کر ملنا ہی لازم تھا تو اپنی پیدائیش سے قبل بھی میں موجُود تو تھا ہی پھر جسمانی زندگی بے معنی ثابت ہوتی ہے جو مُمکن نہیں۔ میں نسلوں کے سفر کی افادیت سے اِنکار نہیں کرتا، اپنے آپ کو مُستقبِل کے خُوشقسمت انسانوں کی پیدائیش کے لیے وسیلہ بنائے جانے کی مہربانی پر بھی مشکُور ہُوں لیکن میرا بس یہی مصرف ہے یہ ماننے میں مجھے تامُّل ہے۔ 

میرا دِل کہتا ہے کہ کوئی اور راستہ بھی یقیناََ موجُود ہے جو مجھے جسم میں رہتے ہُوئے بھی نسلوں پار کا مطلُوب دکھا سکتا ہے۔ میں بے مقصد نہیں مرسکتا۔ یا تو مجھے آنکھیں کھونی ہونگی یا پھر آنکھیں پانی ہونگی۔۔۔ ڈاکٹر جاسم ارشاد چٹھہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں