198

زندگی کا فلسفہ اسلامی نظر میں

خود اپنے اندر موجود خالق کی کاریگری پر غور تو ہم شاید اس لیے نہیں کر پاتے کہ پیدا ہونے سے اب تک خود کو ایسے ہی دیکھ کر گویا اپنے ہونے کو ہم معمول کا ایک عام سا معاملہ مان چکے ہیں، لیکن کبھی چھٹی کے دن کسی ایسی جگہ جا بیٹھیے جہاں سبزہ درخت پھول اور ندی ہو۔  

وہاں رنگ برنگے پھولوں میں اڑتی پھرتی تتلیوں کے پروں پر غور کیجیے۔ 

یا پھر اس تتلی اور وہاں موجود پھولوں کے اردگرد نظرآتے سبزےاور پانی کے باہمی تعلق سے اپنے ذہن پر طاری ہوتے پرامن سکوت پر غور کیجیے۔

اس لمحے آپکو محسوس ہوگا کہ آپ وہاں موجود کسی درخت کی طرح اسی ماحول کا اٹوٹ حصہ ہیں جسے اسکی مرضی کے بغیر اس ماحول سے الگ کر دیا گیا تھا۔ 

پھر وہاں سے لوٹتے ہوئے بازار میں کہیں رکیے، آپکے گھر میں بچوں بڑوں اور بزرگوں سمیت جتنے بھی افراد موجود ہیں سبھی کے لیے کوئی نہ کوئی ایسی چیز خرید لیجیے جو مہنگی نہ ہو۔

اس دوران بازار میں تیزی سے ادھر ادھر جاتے افراد کے چہروں کے تاثرات پر غور کیجیے، ان افراد کی عمریں رنگ اور قد آپس میں جتنے بھی مختلف ہوں, آپ ان میں سے ہر ایک میں اپنی جھلک دیکھ سکیں گے۔ 

گھر پہنچ کر جب آپ سبھی بچوں اور بزرگوں کو انکے لیے لائی ہوئی اشیا دیں گے تو انکی آنکھوں میں تشکر اور محبت کا موجود احساس جہاں آپکو اپنی دنیا میں موجودگی کی ایک وجہ سمجھائے گا وہیں خود اپنی انکے بیچ موجودگی پر غور شاید اس تشکر میں کوتاہی کا احساس بھی پیدا کرے جو آپ آج تک نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ 

وہاں موجود بچوں کی معصومیت, بڑوں کی آنکھوں میں موجود خوابوں اور بزرگوں کے ماتھے کی شکنوں کے پیچھے چھپی بیٹھی تھکاوٹ اور ان سب کے باہمی تعلق پر غور سے شاید آپ ضروری محنت اور غیر ضروری بھاگ دوڑ میں فرق جان لیں۔

آپ خود کھانا بنا سکتے ہوں تو بھی اپنے دیگر اہل خانہ میں سے چند کو ساتھ ملا کر پوری محبت سے وہ بنانا شروع کیجیے جو آپ سب سے اچھا بنا سکتے ہوں۔ 

آپ جو بھی بنائیں وہ گھر والوں کی ضرورت سے کچھ زیادہ ہو۔ 

سب کے ساتھ مل کر کھانا بناتے ہوئے گھر کے ماحول میں مہکتے خوشگوار احساس پر غور آپکو آپکی اور آپ سے نیوکلئر تعلق رکھنے والے افراد اہمیت سمجھانے کے ساتھ ساتھ پھر اسی تشکر کی کمی کا احساس ضرور دلائے گا جس سے آپ غافل تھے۔ 

پھر جب کھانا تیار ہو جائے تو خود کھانے سے پہلے اس میں سے کچھ لے کر اپنے ہمسایوں رشتے داروں یا دوستوں میں سے کسی ایسے کے گھر جائیے جہاں آپ گھر کے اندر جا کر کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہوں۔ 

وہاں پہنچ کر انہیں بتائیے کہ آپ اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر انکے لیے لائے ہیں۔ 

بیٹھتے ہی خود انہیں چائے کافی یا شربت لانے کا کہہ دیجیے۔ 

وہ آپ کے ساتھ بیٹھیں تو انکے ساتھ مختلف موضوعات پر بات کیجیے اور دوران گفتگو انکے الفاظ کی بجائے ان الفاظ سے ٹپکتی اپنائیت پر غور  کرتے ہوئے سوچیے کہ ان جیسے کتنے ہی افراد ایسے ہیں جنکی فقط موجودگی ہی آپکے لیے اور آپکی موجودگی انکے لیے کس قدر  باعث طمانیت ہے۔ 

پھر سوچیے کیا یہ طمانیت بھی زندگی سے جڑے ان حقائق میں شامل ہے جن کا تشکر آپ نے کبھی اہم ہی نہیں سمجھا تھا۔ 

پھر واپس آتے ہوئے اس ندی کے کنارے موجود سبزے درخت تتلیوں پھولوں اور درختوں کے باہمی تعلق پرآپ نے جو سوچا تھا اسی کے خلاصے کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود کو ندی سمجھتے ہوئے راہ چلتے افراد کو سبزہ تصور کیجیے اپنے اہل خانہ دوستوں ہمسایوں بچوں اور بزرگوں میں سے بعض کو پھولوں کی جگہ رکھیے بعض کو درختوں کی جگہ بعض کو تتلیوں اور بعض کو اس ماحول کے دوسرے حقائق کی جگہ۔ 

آپ آج کے دن کے غوروفکر کے دوران مختلف حقائق کے ایک دوسرے سے جڑے ہونے اور مل کر ایک بڑی تصویر بنانے کی حقیقت سے تو پہلے ہی آگاہ ہو چکے تھے اب اپنے اردگرد موجود افراد کو ایک نئی نظر سے دیکھنے پر آپ جان پائیں گے کہ آپ اس تصویر کے ایسا بننے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں کہ یہ آپ کے لیے ویسا ہی فرحت بخش احساس پیدا کرے گا جو آپ نے ندی کے کنارے بیٹھ کر پایا تھا۔

اگر آپ عقل سلیم رکھتے ہیں تو وہی لمحہ آپ کے عملی شکر کی تصویر بننے کی ابتدا کرے گا۔ 

آپ اسی لمحے دین کا مقصد بھی جان جائیں گے اور زندگی سے اسکے تعلق کو بھی۔   

اسلام کا بنیادی مقصد آپکو مستقلا وہی احساس فراہم کرنا ہے جو آپ نے آج صبح ندی کے کنارے بیٹھ کر پایا تھا اور چونکہ دین کی روح سماجی ہے لہذا اسلام آپ کے اس کردار میں دلچسپی رکھتا ہے جسکے باعث آپکے اردگرد میں بھی طمانیت کا وہی احساس پیدا ہو جسکی روح آج آپ نے محسوس کی۔ 

اگر آپ یہ کردار ادا کر پائے تو اس دنیا میں تو آپ یہ احساس خود ہی حاصل کر لیں گے, آپکا یہ کردار موت کے بعد بھی اس احساس کا تسلسل آپکے ساتھ رکھنے میں مدد دے گا….ڈاکٹر جاسم ارشاد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں