142

فلسطین اسرائیل امن منصوبہ

امریکی صدر ٹرمپ کا فلسطین اسرائیل امن منصوبہ جسے صدی کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جارہا ہے، نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ حقیقت میں طاقت کے نشے میں چور قابض اسرائیل کی حمایت میں امریکہ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ ہم طاقتور ہیں، ہم جہاں چاہے قبضہ کریں، اگر کسی مائی کے لعل ملک میں طاقت ہے تو سامنے آئے، سامنے کون آسکتا ہے، مسلمان قرآنی تعلیمات سے میلوں دور اپنی اناپرستی اور خودغرضی کی زندگی گزارنے میں مگن ہیں، فرقہ ورانہ نفرت عروج پر ہے، کئی مسلمان ممالک جو کل اپنے آپ کو طاقت سمجھتے تھے آج راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، جو آج اپنے آپ کو طاقت سمجھ رہے ہیں وہ کل راکھ کا ڈھیر بننے کی طرف رواں دواں ہیں، مسلمانوں کی سب سے بڑی خامی جذباتی ہونا ہے، جذبات اور عقل کبھی ساتھ نہیں چل سکتے، یہ جذبات ہی ہیں جنکی وجہ سے آج فرقہ ورانہ نفرت عروج پر ہے، اگر مسلمان عقل سے کام لیتے تو کبھی معمولی مذہبی اختلافات پر ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار نہ کرتے۔ 

اس وقت بین الاقوامی قانون کے مطابق 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد فلسطینی اور شامی علاقے پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے طاقت کے زور پر اسے قانونی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فلسطین کے علاقے پر اس وقت غیر قانونی قبضہ ہوا ہے اسے ساری دنیا مانتی ہے، لیکن ایک اور حقیقت بھی اٹل ہے اور وہ یہ ہے کہ اس علاقے پر مسلمانوں کا حق ہمیشہ سے نہیں ہے، بلکہ پہلے یہ علاقہ یہودیوں کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ سلام اس علاقے میں پیدا ہوئے جوان ہوئے اور فوت ہوئے آپکی قوم یہودی مذہب پر عمل پیرا تھی اور یہ علاقہ یہودیوں کے زیر اثر تھا، اس وقت عیسائیوں اور مسلمانوں کا نام ونشان نہیں تھا۔

حضرت عیسی علیہ اسلام اسی علاقے میں پیدا ہوئے جوان ہوئے اور عیسائیوں کے نزدیک مصلوب ہوئے اور مسلمانوں کے نزدیک آسمانوں پر اٹھائے گئے، جس وقت یہ سب ہوا تب اس علاقے میں یہودی اور عیسائی موجود تھے، اس وقت بھی یہاں مسلمانوں کا نام ونشان نہ تھا۔

اس علاقے پر شروع دن سے ہی طاقت ور قبضہ کرتے آئے ہیں، پہلے یہودیوں کا علاقہ تھا پھر عیسائی قابض ہوئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا، پھر صلیبی جنگیں شروع ہوئیں اور عیسائیوں اور مسلمانوں میں باری باری قبضے کا عمل ہوتا رہا، پھر خلافت عثمانیہ نے طاقت حاصل کی اور مسلمان اس علاقے پر چھ سو سال تک قابض رہے، پھر برطانیہ یعنی عیسائیوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا، اور ساتھ ساتھ یہودیوں کا اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کروانا شروع کردیا، دوسری جنگ عظیم کے بعد اس پر یہودیوں کا مکمل قبضہ ہوگیا، مستقبل میں کوئی اور طاقتور اس علاقے پر قابض ہو جائے گا، مسلمان طاقتور ہوئے تو مسلمان اور عیسائی طاقتور ہوئے تو عیسائی۔۔۔ قبضے کا یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا، لہذا اس علاقے کو کسی دلیل سے بھی مسلمانوں کا ہمیشہ سے جدّی پشتی علاقہ ڈیکلیر نہیں کیا جاسکتا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب ترکی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور برطانیہ نے فلسطینی علاقے پر یہ کہتے ہوئے قبضہ کر لیا کہ وہ اس علاقے کو آزادی دلوائے گا، تو اس وقت فلسطینی مسلمانوں نے برطانوی سامراج کو خوش آمدید کہا، ان بیوقوف فلسطینی مسلمانوں کو اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ عیسائی ملک مسلمانوں کو مسلمانوں سے آزادی دلوا رہا ہے، بعد میں جب یہاں یہودیوں کی آبادکاری شروع ہوئی تو بیوقوف فلسطینی مسلمانوں نے اپنی بنجر زمین دس بیس گنا زیادہ قیمت پر یہودیوں کو فروخت کرنا شروع کردی، اور اس پیسے سے ہمسایہ ممالک اردن اور لبنان میں بڑی بڑی جائیدادیں خریدنا شروع کردیں، جب یہاں یہودی لاکھوں کی تعداد میں آباد ہوگئے تو انہوں نے باقی علاقوں پر زبردستی قبضہ کرنا شروع کردیا، دوسری جنگ عظیم کے بعد جب برطانیہ فلسطین چھوڑ کر واپس جانے لگا تو اس وقت یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں آباد ہوچکی تھی، اسی دوران اقوام متحدہ نے بڑھتی ہوئی لڑائی کے پیش نظر فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنا دیا تھا تاکہ یہاں امن قائم کرنے کیلئے مستقل حل ڈھونڈا جائے، اس کمیشن نے یہ رپورٹ پیش کی کہ یہاں دو ملک اسرائیل اور فلسطین بنیں گے اور یروشلم درمیان میں آزاد حیثیت سے رہے گا، کیونکہ اس شہر پر تینوں مذاہب کا اپنا اپنا دعوی ہے، اس رپورٹ کو جیوئش ایجنسی نے منظور کر لیا جبکہ فلسطینی اٹھارٹی نے رد کردیا، اور یوں اسرائیل نامی ملک دنیا کے نقشے پر وجود میں آگیا اور فلسطینی اپنی بیوقوفی کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے، بیوقوف لوگوں کی قسمت میں غلامی ہوتی ہے آزادی نہیں۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں