169

امریکی فوج میں خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں 25 فی صد اضافہ

پینٹاگون کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیمی سال 19-2018 میں تین ملٹری اکیڈمیز میں جنسی زیادتی کے 149 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنسی زیادتی کے واقعات بری، بحری اور فضائیہ کی اُن اکیڈمیز میں پیش آئے ہیں جہاں مستقبل کے فوجی افسران تیار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس ملٹری اکیڈمیز میں جنسی زیادتی کے واقعات میں 25 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ہر دو سال بعد نیویارک کی ملٹری اکیڈمی، میری لینڈ میں موجود بحریہ اکیڈمی اور کولوراڈو میں موجود فضائیہ اکیڈمی میں لگ بھگ 13 ہزار طلبہ کو ایک سوالنامہ دیا جاتا ہے جس میں ان سے جنسی زیادتی یا اُنہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ پینٹاگون کی جنسی زیادتی سے متعلق جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں مذکورہ تینوں اکیڈمیز کے طلبہ سے پوچھے گئے سوالات کے نتائج شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات امریکی بری فوج کے اسکول میں پیش آئے جن کی تعداد 57 ہے۔ بحریہ اکیڈمی میں 33 اور فضائیہ اکیڈمی میں جنسی زیادتی کے 40 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ مجموعی تعداد 130 بنتی ہے جب کہ دیگر واقعات ان کے ساتھ پیش آئے جو ان اکیڈمیز میں زیرِ تعلیم نہیں۔ تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکی ایئرفورس کے سابق کمانڈر اور ‘پروٹیکٹ اوور ڈیفینڈر’ نامی تنظیم کے سربراہ کرنل ریٹائرڈ ڈان کرسٹینسن نے کہا کہ پینٹاگون کی یہ رپورٹ اس بات کی عکاس ہے جو ہم پہلے ہی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کو روکنے کے لیے پینٹاگون کو مسلسل ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان واقعات میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈان کرسٹینسن نے مسلح افواج میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو جنسی واقعات کی روک تھام کے حوالے سے فوجی انصاف سے متعلق اصلاحات (ملٹری جسٹس ریفارم) کے معاملات پیشہ ورانہ افراد کے ہاتھوں میں نہ دینے کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری جسٹس ریفارم میں مکمل رکاوٹیں حائل کرنے سے جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے فوج کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ اس کے اثرات آئندہ نسل کی قیادت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں