267

پاکستانی عورت بمقابلہ سویڈش عورت

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، لیکن یہاں اسلام کا صرف نام استعمال کیا جاتا ہے، گلی محلوں، سکول کے راستوں اور مدارس میں جنسی درندے بیٹھے ہوئے ہیں، جو بچے بچیوں کو زیادتی اور بدفعلی کے بعد قتل کر دیتے ہیں، ہر گھر کے مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول خود چھوڑ کر دفتر جائے اور واپسی پر انہیں لیکر دوبارہ گھر چھوڑے، گلی محلوں میں جہاں بھی چند لڑکے کھڑے ہوتے ہیں انکی گفتگو کا موضوع لڑکی پھنسانا ہی ہوتا ہے، اگر کچھ اور نہ کر سکیں تو گلی محلوں اور پارکوں میں جا کر لوگوں کی بہن بیٹیاں تاڑ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر رہے ہوتے ہیں، پاکستان میں ہر لڑکی کو لڑکے سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر ہوتی ہے، لڑکے جوان ہو کر لڑکی پھنسانے کے چکر میں ہوتے ہیں جبکہ لڑکیاں کسی اچھے جیون ساتھی کی تلاش میں ہوتی ہیں، ایسی صورت میں جس لڑکے کے پاس گاڑی یا اچھی جاب ہو وہ کئی لڑکیاں پھنسا لیتا ہے، اسکا مقصد وقت پاس کرنا ہوتا ہے، جس لڑکی کو ایک بار پھنسا لے پھر اس سے شادی نہیں کرتا بلکہ دوسری خواتین کی طرف بڑھ جاتا ہے، مستقبل بہتر بنانے کی اس دوڑ میں کئی بچاری لڑکیاں لڑکوں کی حوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔

سویڈن آنے سے پہلے راقم نے نے پانچ سال لاہور میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کی ہوئی ہے، نہر کنارے سرشام پیسے کمانے کے چکر میں درجنوں خواتین اور کھسرے کھڑے دیکھے ہیں، جن سے کچھ فاصلے پر پولیس والے بھی اکثر وبیشر چھپ کر کھڑے ہوتے تھے، کسی گاڑی والے نے ادھر لڑکی کو گاڑی میں بٹھایا ادھر پولیس نے سامنے آ کر پکڑ لیا اور اپنی مرضی کے پیسے لیکر چھوڑ دیا، مہنگائی کی وجہ سے لاہور کے گلی محلوں میں کئی ایسی خواتین موجود ہیں جو اندر کھاتے جنسی تعلقات بنا کر لیئے گئے پیسوں سے اپنے بچے پڑھوا رہی ہیں، اپنے گھر کا خرچ چلا رہی ہیں، راقم نے ایسی خواتین 1999 سے 2004 تک دیکھی تھیں جب ابھی مہنگائی اتنی زیادہ نہیں تھی، آج کے دور میں کیا ہوتا ہوگا، یہ اللہ ہی جانتا ہے یا شاید لاہور میں رہنے والے جانتے ہونگے۔

پندرہ سال پہلے جب میں طالب علم بن کر سویڈن آ رہا تھا تو میرے پاکستانی مینیجر نے کہا تھا کہ سویڈن سیکس فری ملک ہے، وہاں دنیا میں سب سے زیادہ پورنو فلمیں بنتی ہیں، وہاں نہ جاؤ پچھتاؤ گے، لیکن میرا چونکہ ویزہ لگ چکا تھا، لہذا میں استعفیٰ دیکر سویڈن آگیا، یہاں آ کر شروع شروع میں مجھے بھی مینیجر کی بات سچی لگنے لگی کیونکہ خواتین آدھے کپڑے پہنے ہر جگہ مردوں کے شانہ نشانہ پھرتی تھیں، ہاتھ ملانا گلے ملنا عام تھا، کچھ عرصہ انکے درمیان گزارا تو معلوم ہوا یہ سب انکا کلچر ہے، حقیقت میں جتنا سویڈش خواتین میں اعتماد ہے دنیا میں شاید ہی کہیں اور ہو، یہاں کی خواتین مالی طور پر آزاد ہیں، انہیں کسی مرد کے سہارے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، پیدا ہونے سے لیکر مرتے دم تک یہاں ہر بچے بچی کو پیسے ملنے ہی ہیں، یہاں کے بچوں کو مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے، سب آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ 

سویڈن میں پیڈ سیکس جرم ہے، اگر کوئی گھر سے سیکس کیلئے خواتین ڈھونڈنے نکلے تو ناکام واپس لوٹے گا، ہر عورت کا دماغ ساتویں آسمان پر ہے، سویڈش عورت رشتوں میں حد درجہ وفاداری کرتی ہے، جس کے ساتھ اسکا رشتہ ہوتا ہے اسی کے ساتھ سیکس کرتی ہے، یہاں شادیاں بہت کم ہوتی ہیں، خواتین اور مرد آپس میں خیالات ملنے پر اکٹھے رہنا شروع کر دیتے ہیں، اس رشتے کو سویڈش زبان میں سامبو کہتے ہیں، اس رشتہ کو کہیں بھی رجسٹر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، جب مرد اور خاتون ایک ایڈریس پر رجسٹر ہو جائیں تو اسکا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ سامبو بن کر رہ رہے ہیں، اس رشتے میں جب دونوں فریقین میں اعتماد آ جاتا ہے تو دونوں بچے بھی پیدا کرلیتے ہیں، بچے کی پیدائش پر سویڈش ریکارڈ میں ہسپتال کے اندر ہی گارڈین یعنی سرپرست ماں باپ کا نام لکھا جاتا ہے، بچے کے پیدا ہوتے ہی ماں کو اسکا جیب خرچ ملنا شروع ہوجاتا ہے جو اٹھارہ سال کی عمر تک ماں کے اکاؤنٹ میں آتا رہتا ہے بعد میں بچے یا بچی کے اپنے اکاؤنٹ میں پیسے آنا شروع ہوجاتے ہیں، ہر بچے کی پیدائش پر ماں اور باپ دونوں کو 480 دن یعنی ڈیرھ سال کی تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ایک بچے کی دیکھ بھال کیلئے ملتی ہیں، آٹھ مہینے والد کو اور آٹھ مہینے والدہ کو، ان چھٹیوں کے دوران ماں یا باپ کو بچے کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اور اس دوران بچہ سکول نہیں جاسکتا، ان چھٹیوں کو مختلف شرائط کیساتھ آٹھ سال تک استعمال کیا جاسکتا ہے، بعد میں بچ جانے والی چھٹیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔

کچھ خواتین سیکیس ریلیشن بنانے سے پہلے چرچ میں شادی رجسٹر کروا لیتی ہیں لیکن کچھ سامبو کے رشتہ سے ایک گھر میں اکٹھے رہتی رہتی ہیں دو تین بچے بھی پیدا کرلیتی ہیں، ان میں سے زیادہ تر بعد میں شادیاں بھی کرلیتی ہیں، جس میں انکے بچے بھی شریک ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ساری عمر سامبو کے رشتہ میں ہی گزار دیتی ہیں، سویڈن کا قانون شادی اور سامبو کے رشتہ کو برابر سمجھتا ہے، اس میں ایک فرق ہوتا ہے شادی کے رشتہ میں طلاق کے بعد جائیداد دونوں فریقین میں برابر کی تقسیم ہوتی ہے جبکہ سامبو کے رشتہ میں جب چاہئیں دونوں فریقین علیحدہ علیحدہ ہوجاتے ہیں، اور جائیداد اپنی اپنی رہتی ہے۔

شادی اور سامبو کے رشتہ کے علاوہ ایک اور رشتہ بھی سویڈن میں پایا جاتا ہے اسکا نام ہے کنول کمپس، یعنی صرف سیکس کا رشتہ، اس رشتے میں مرد کہیں اور رہتا ہے خاتون کہیں اور رہتی ہے، وقت ملنے پر دونوں کسی جگہ سیکیس کرلیتے ہیں، پچھلے پندرہ سال میں مجھے ذاتی طور پر ایسا کوئی رشتہ نظر نہیں آیا، اس لیئے اس رشتے کو فی الحال کاغذی رشتہ ہی سمجھا جائے😀، سویڈش خواتین کی اکثریت کسی بھی رشتے یا تعلق میں شراکت پسند نہیں کرتیں، لہذا جس مرد کے ساتھ تعلق بناتی ہیں اسے نبھانے کی پوری پوری کوشش کرتی ہیں، ایک حد تک کمپرومائز بھی کرتی ہیں، لیکن ذرا دماغ خراب ہو تو طلاق کیلئے اپلائی بھی کر دیتی ہیں، طلاق ہونے میں چھ مہینے کا عرصہ لگتا ہے، جب کوئی جوڑا علیحدہ ہوتا ہے تو بچوں پر اسکا اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ بچوں کی تمام ذمہ داری سٹیٹ پر ہوتی ہے اسلئے بچے اچھے طریقے سے پل جاتے ہیں، اگر ماں باپ انہیں اپنانے سے گریز کریں تو حکومت انہیں کسی دوسرے جوڑے کو سرپرست بنا کر دے دیتی ہے جو اسکی چاہت رکھتے ہوں اور خود انکے اپنے بچے کسی وجہ سے نہ ہوں، لہذا بچوں کا استصحال کم ہی ہوتا ہے، جس معاشرے میں کتے اور بلیوں کے بچوں کی انسانوں کے بچوں سے بھی زیادہ حفاظت ہوتی ہو وہاں انسانوں کے بچوں کا بھی خیال زیادہ ہی رکھا جاتا ہے۔ یہاں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کے ایسے ادارے موجود ہیں جہاں لوگ صبح صبح اپنے جانور چھوڑ کر دفاتر میں چلے جاتے ہیں اور واپسی پر انہیں لیکر گھر آ جاتے ہیں، گھر کے اندر اپنے بچے یا جانور اور اسکے بچے کو اکیلا چھوڑ کر جانا جرم ہے، ہمسائیوں کے شکایت لگانے پر پولیس کیس بن جاتا ہے اور یہاں قانون کی حکمرانی ہے پولیس کسی پر تشدد نہیں کرسکتی اور رشوت سویڈش معاشرے میں ناممکنات میں سے ایک ہے۔

سویڈش معاشرے میں خواتین کے اتنے زیادہ حقوق ہیں کہ اگر شادی شدہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ بھی اسکی مرضی کے خلاف سیکس کر لے تو ریپ کا کیس رجسٹر ہوجاتا ہے، لہذا پورے سویڈن میں مرد خواتین سے ڈر کر رہتے ہیں اور انکی مرضی کے ساتھ ہی سیکس کرتے ہیں، ماں باپ بچوں کو مارنا تو دور کی بات ہے ان پر چیخ بھی نہیں سکتے، سکولوں میں ماہر نفسیات بچوں کے اکثر انٹرویوز لیتے رہتے ہیں اگر بچہ ذرا سی بھی ماں باپ کے غلط رویے کی شکایت لگا دے تو ماں باپ کو جیل اور جرمانہ ہوسکتا ہے، ایسی صورت میں بچوں کو چھین کر دوسرے سرپرست والدین کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اصلی ماں باپ بچوں کے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد انکی مرضی سے ہی ان سے مل پاتے ہیں، ایک سال کی عمر سے بچے کنڈرگارڈن سکول جانا شروع کر دیتے ہیں، جہاں چھ سال تک انکی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور سارا عملہ خواتین پر ہی مشتمل ہوتا ہے، چھ سال کی عمر سے بچہ بڑے سکول میں جانا شروع کر دیتا ہے جو تیسری جماعت تک ہوتا ہے اور وہاں بھی اسی نوے فیصد خواتین ٹیچر ہی ہوتی ہیں، چوتھی سے نویں کلاس کا سکول علیحدہ ہوتا ہے جہاں مرد اور خواتین مکس اساتذہ ہوتے ہیں، ہر کلاس میں ایک ہی عمر کے بچے بچیاں پڑتے ہیں، بچہ سکول سے آگے پیچھے ہوجائے تو شہر کی پولیس ہیلی کاپٹر اور گاڑیوں سمیت حرکت میں آجاتی ہے، بچے اکیلے سکول جاتے اور آتے ہیں کسی کی جرات نہیں ہوتی انہیں میلی نظر سے دیکھ لے۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں