69

ایرانی میزائل حملوں سے امریکی فوجی اڈے کو پہنچنے والا نقصان

ایران نے 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں القدس فورس کے کمانڈر، میجر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے رد عمل میں 8 جنوری کو عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل سے حملے کیے تھے۔ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ زمین میں گڑھے پڑ گئے۔ دھماکوں سے دیواریں گر گئیں اور رہائشی بلاک میں آگ لگ گئی۔

ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والا امریکی فوجی اڈّا عراق کے صوبے انبار میں واقع ہے۔ جس کا نام عین الاسد بیس ہے۔ میزائل حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈے کی حالیہ تصاویر 13 جنوری کو جاری کی گئیں۔ 

حملے کے بعد نقصان کا جائزہ لینے کے لیے امریکی فوجیوں نے عین الاسد ایئربیس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ امریکی فضائیہ کی افسر لیفٹیننٹ کرنل اسٹیکی کولیمین نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں تمام فوجی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

ایران نے عین الاسد بیس اور اربیل میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ فوجیوں کے کوارٹرز کی دیواریں گر گئیں۔

عراق کے صحرائی علاقے انبار میں امریکہ کے 1500 فوجی تعینات ہیں اور اس محاذ کی قیادت خاتون لیفٹیننٹ کرنل اسٹیکی کولیمین کر رہی ہیں۔

عراق کے الاسد ایئربیس پر ایرانی حملے سے کس حد تک نقصان پہنچا، اس کا اندازہ سیٹیلائٹ سے لی گئی اس تصویر سے لگایا جا سکتا ہے۔ 

حملے کے بعد ایئربیس کا ملبہ بکھرا نظر آ رہا ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں عین الاسد بیس کی مضبوط دیواروں، کنٹینرز اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا۔

لیفٹیننٹ کرنل کولیمین کا کہنا ہے کہ رات 10 بجے کے قریب تمام اسٹاف حملے سے بچنے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا تھا۔ جس کے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے بعد میزائل حملہ ہوا جو دو گھنٹے تک جاری رہا۔

حملے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے زیرِ استعمال فرنیچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

ایران نے ایک درجن سے زائد میزائل داغے تھے جب کہ عراقی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 22 میزائل داغے جن میں سے 17 عین الاسد ایئربیس پر داغے گئے۔

ایران کا ایک میزائل بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے سروس ایریا میں بھی گرا تھا جس کے نتیجے میں دو ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا۔ البتہ ہیلی کاپٹروں کو پہلے ہی وہاں سے منتقل کر دیا گیا تھا، لہٰذا تمام ہیلی کاپٹر محفوظ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں