179

امریکہ اور ایران کشیدگی

ایرانی مفادات کا تحفظ جنرل قاسم سلیمانی کی ذمہ داری تھی اور وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب و کامران ٹھہرے ہیں۔ اگر ناکام ہوتے تو امریکی صدر کو ان کے قتل کا حکم نہ دینا پڑتا۔
ہم پاکستانیوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں یا نہیں؟
دوسروں کے غم میں ہلکان ہونے کی بجائے اپنے گھر لگی آگ پر غور کیا جائے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے کرفیو کو کتنے دن گزر گئے ہیں اور وہاں زندگی گزارنے والے کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہے؟
ایرانی جنرل کا قتل بہت بڑا ظلم ہے اور شدید ترین گھمنڈ میں کیا گیا فیصلہ ہے جو دنیا کو نئی جنگ کی طرف دھکیل دے گا اور جنگ ہمارے بارڈر پر ہو گی اس لئے ایک بار پھر ہم جنگ کا ایندھن بننے جا رہے ہیں۔ ایران جواب ضرور دے گا اس بات کا ادراک امریکیوں کو بھی ہے اب ایران کب اور کس محاذ پر جواب دیتا ہے یہ سب ایران کی صوابدید پر ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہو یا نہ ہو پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ ارباب اختیار کو مستقبل کی صف بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہم دوبارہ سے اس ٹیلی فون کال کے دور میں پہنچ چکے ہیں جب ہم کو امریکہ نے کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ؟
امریکہ کے سابق وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکہ جس کا دشمن ہو اس کو ڈرنا (احتیاط کرنی) چاہیے اور جس کا دوست ہو اس کو بہت زیادہ احتیاط کرنی (ڈرنا) چاہیے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بیک وقت امریکہ کے گہرے دوست اور شدید ترین دشمن ہیں اس لئے ہمیں احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
از قلم
چودھری عمران اشرف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں