86

پاکستانی مفادات کی حفاظت

میں تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ سعودی، ایرانی یا امریکی ترجمان بننے کی بجائے پاکستان کے مفادات کی حفاظت کریں۔ امت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اس طرح کے فرضی خاکے اچھے ضرور لگتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔

کشمیر کاز پر کتنے مسلم ممالک نے پاکستان کی حمایت اور کتنے ممالک نے مخالفت کی ہے؟ آپ سب بہتر جانتے ہیں۔

بھارتی پروپیگنڈہ عروج پر ہے جو پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے۔ محتاط رہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے جاننے والوں کو بھی آگاہ کریں کے یہاں ہر کوئی اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کوئی مذہبی یا مسلکی جنگ نہیں جو آپ ثواب حاصل کرنے کے چکر میں اپنی ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔

اس وقت حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ تمام پاکستانیوں کو حالات سے باخبر رکھے اور پاکستان کے مفادات اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

پڑوس میں آگ لگی ہو تو اس کے پھیلنے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ہم کو اس آگ پر قابو پانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور اگر اس پر قابو نہیں پا سکتے تو کم از کم اس کے اثرات سے بچنے کے لئے پیشگی انتظام کیے جائیں۔

جنگ میں دشمن ملک اور ان کے آلہ کار عوام میں مایوسی اور ناامیدی پھیلاتے ہیں ایسے تمام عناصر سے اجتناب کیا جائے اور دشمن کے پروپیگنڈا کا بروقت اور مناسب جواب دیا جائے تاکہ عوام اچھے برے کی تمیز کر سکیں۔

پاکستان کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے لیکن ہم کسی کا آلہ کار بن کر لڑنے سے قاصر ہیں۔ امریکہ بہادر سے بھی اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر بات چیت کی جائی اور اس جنگ سے جس حد تک بچا جا سکتا ہے بچنے کی کوشش کی جائے۔

سعودی اور ایرانی حکومتوں سے گزارش ہے کہ آپ کے اپنے اپنے مفادات ہیں مہربانی فرما کر پاکستانی عوام کو اپنے اپنے مفادات کے لئے مذہب کے نام پر قربان کرنا بند کر دیں آپ کی مہربانی ہو گی۔

ایران ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے آج اس پر مشکل صورت حال ہے ہم کو بطور ریاست کسی صورت بھی اس کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور دوسری طرف سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے والا اسلامی ملک ہے اس کے باوجود اگر سعودی عرب ایران کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بنے تو ہم کو ان کا ساتھ دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اس وقت ہمارے ازلی دشمن اور پڑوسی ملک بھارت کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ موجودہ تنازعہ میں پاکستان کسی ایک فریق کے ساتھ ہو کر اس کو کھل کھیلنے کا موقعہ دے۔ بھارتی ہم کو پروپیگنڈہ کے ذریعے مسلکی بنیادوں پر خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں اور بین الاقوامی طاقتوں کی بھی خواہشات بھارت کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ان سب کو شکست دینی ہے اور چومکھی جنگ لڑنی ہے جو میدان جنگ کی بجائے اعصاب کی جنگ ہے۔

اعصاب کی جنگ جیتنے کے لئے طاقتور دماغ اور بہترین حکمت عملی درکار ہوتی ہے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہمارے پاس بیش قیمت دماغ اور بہترین صلاحیتوں کے مالک اور ہر محاذ پر وطن کا دفاع کرنے والے بے لوث رضا کار موجود ہیں ضرورت صرف اور صرف ان کی صلاحیتوں کو مثبت طور پر استعمال کرنے کی ہے۔

اللہ تعالی پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

تحریر  چودھری عمران اشرف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں