152

توہین اسلام کا عفریت

پاکستان میں توہین اسلام کا الزام ایک ایسا عفریت بن چکا ہے، جس نے اب تک سینکڑوں بےگناہ لوگوں کی جان لے لی ہے، کچھ مفاد پرست علماء نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے لاکھوں کڑوروں لوگوں کو اتنا ریڈیکلائز کردیا ہے کہ اب غیر مسلم تو غیر مسلم مسلمانوں کو بھی اس ملک میں انتہائی سوچ سمجھ کر بولنا پڑتا ہے، یہی ڈر ہوتا ہے کہ کہیں انکی کوئی بات کسی دین کے ٹھیکیدار کو بُری نہ لگ جائے، اور غازی علم دین بننے کے چکر میں کہیں وہ قتل غارت نہ شروع کردے۔

کچھ ماہ پہلے اپنی کتاب سفرنامہ اسرائیل فلسطین کی اشاعت کے سلسلے میں اردو بازار لاہور جانے کا اتفاق ہوا، دو تین پبلشرز سے بات ہوئی اور بالآخر ایک پبلشر سے معاملات طے پا گئے، پبلشر صاحب چہرے پر سیاہ داڑھی سجائے اسلامی وضع قطع رکھنے والے نفیس انسان تھے، پہلی میٹنگ میں ہی مجھے کہنے لگے کہ آپ شریف آدمی لگتے ہیں اور آپکی پہلی پہلی کتاب ہے، اوپر سے انتہائی متنازع ترین ملک کے نام پر لکھی گئی ہے، اس ملک کا نام سن کر پاکستان میں بڑوں بڑوں کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، میری آپ سے درخواست ہے اس کتاب کو دو تین بار احتیاط سے پڑھ لیں اور یہ یقین کر لیں کہ اس کتاب کی کسی لائین سے توہین اسلام کا کوئی پہلو نہ نکلتا ہو، اردو بازار میں درجنوں ایسے وکیل بیٹھے ہوئے ہیں جنکا کام صرف یہی ہے کہ کسی کی کتاب سے کوئی ایسا نقطہ ڈھونڈیں جس میں توہین اسلام کا کوئی پہلو نکلتا ہو ایسی صورت میں یہ حرکت میں آجاتے ہیں، انکے ساتھ کئی علماء اور مولوی حضرات بھی ملے ہوئے ہیں، پہلے یہ بلیک میل کر کے زیادہ سے زیادہ پیسے نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں، ناکامی کی صورت میں عدالت میں کیس کر دیتے ہیں اور مولوی طبقے کو پیچھے لگا دیتے ہیں، ایسی صورت میں انسان کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں مذہب کے نام پر قتال کرنے کو عین ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے اور اس معاملے میں ہر کوئی ہمہ دم تیار ہوتا ہے، آپ تو یورپ میں رہتے ہیں ہمیں تو یہاں ہی انکے درمیان رہنا ہے، اسلئے مہربانی فرمائیں اسکی اچھی طرح پروف ریڈنگ کرلیں۔ انکی بات بہت مناسب تھی، لہذا مجھے وقت نکال کر ایک دفعہ اس کتاب کو تفصیل کیساتھ پڑھنا پڑا، خیر خدا خدا کر کے کتاب پبلش ہوگئی اور راقم کسی نام نہاد عاشق رسول کے عتاب سے دو چار ہوئے بغیر واپس سویڈن پہنچ گیا۔

سٹاک ہوم میں ایک روز مجھے فیس بک میسنجر پر ایک پیغام وصول ہوا کہ طارق بھائی میں آپکی کتاب خریدنا چاہتا ہوں اور اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک بات بھی کہنا چاہتا ہوں، میں احمدی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہوں، کیا آپ مجھے اپنی کتاب عنایت فرما سکتے ہیں، مجھے اس بات پر حیرانگی ہوئی، کہ وہ اتنا سہمے سہمے ہوئے کیوں ہیں، اور آخر انہیں اپنا مذہبی تعارف کروانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی، خیر میں نے انہیں یقین دلایا کہ مجھے اس بات پر کوئی ایشو نہیں ہے کہ آپ احمدی ہیں، آپکی اپنی زندگی ہے اور اپنے خیالات ہیں، جہاں تک کتاب کی بات ہے تو آپ کسی ویک اینڈ پر میرے گھر آ کر لے لیں یا میں آپکو پوسٹ کر دوں گا۔

گزشتہ روز کچھ ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر محترمہ جنت حسین نیکوکارہ کچھ جہلاء اور دو ٹکے کے نام نہاد عاشقان  کے سامنے اپنے ایمان کی تجدید کروا رہی تھیں کہ وہ مسلمان ہیں، انہوں نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا ہوا ہے اور وہ قادیانیوں کو بہت بڑے کافر مانتی ہیں، اس بیان پر بھی ایک ابوجہل نما انسان یہ فرما رہے تھے کہ بیٹے کا نام محمد رکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے، ایسے تو قادیانی بھی اپنے آپ کو احمد کی نسبت سے احمدی لکھتے اور پکارتے ہیں۔ جنت حسین نیکوکارا ایک غیرمعمولی ذہانت رکھنے والی خاتون ہیں اور انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کر کے ڈی ایم جی گروپ جوائن کیا ہے، جو ہر بیوروکریٹ کا ایک خواب ہوتا ہے، شاید محترمہ اس بات پر خوش تھیں کہ انکی محنت رنگ لائی ہے اور وہ اب کامیاب ہوگئی ہیں، لیکن یہ انکی خام خیالی تھی، انہیں کیا معلوم تھا کہ کسی فورم پر صرف ایک تقریر کرنے پر انہیں کسی مجرم کی طرح کٹہرے میں آ کر اپنے ایمان کی تجدید کروانی پڑے گی، اور کچھ جہلاء ان سے انکے ایمان کے متعلق تفتیش کریں گے، انکی ایمانی تجدید اور معافی سے وقتی طور پر تو معاملہ رفع دفع ہوگیا ہے، لیکن کون جانتا ہے اگر کسی وقت بھی کسی عاشق اسلام کی غیرت جاگ گئی اور اس میں غازی علم دین بننے کا جذبہ بیدار ہوگیا تو محترمہ نیکوکارا اپنے بیٹے محمد سمیت دہشت گردی کی نظر ہو جائیں گی، لہذا بہتر یہی ہے کہ محترمہ اب کسی مغربی ملک کی امیگریشن اپلائی کریں اور اپنے خاندان سمیت کسی ایسی محفوظ جگہ پر تشریف لے جائیں جو ان نام نہاد عاشقان اسلام کی پہنچ سے دور ہو۔

جس رفتار سے پیارے پاکستان میں لوگ عاشقان اسلام بن کر ریڈیکلائز ہورہے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب یہاں گلی محلوں میں کافر کافر کی صدا بلند ہو جائے گی اور قتل وغارت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جسکا انجام صرف تباہی ہی تباہی ہوگا، ایسا ہونا کوئی بعید از قیاس نہیں ہے، یہاں ہر فرقہ دوسرے کو توہین اسلام کا مجرم اور کافر سمجھتا ہے، ملکی اکثریت جذباتی لوگوں پر مشتمل ہے، جب جذبات انسان پر غالب آجائیں تو عقل ساتھ چھوڑ دیتی ہے، اور پھر وہ کچھ ہوتا ہے جو گزشتہ روز پی آئی سی میں ہوا ہے۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں