188

سویڈن نے کرپشن پر کیسے قابو پایا

سویڈن دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کرپشن پر قابو پانے کیلئے تمام شہریوں کی جائدادیں اور دوسری ملکیتی چیزیں انٹرنیٹ پر کھلی رکھ دی گئی ہیں، تاکہ کرپشن کا شک ہونے کی صورت میں کوئی بھی شہری دوسرے شہری کے اثاثے چیک کر لے، آپکو کسی شہری کے صرف نام کے مکمل سپیلنگ آتے ہیں تو آپ صرف ایک کلک سے یہ جان سکتے ہیں کہ جس گھر میں وہ رہتا ہے، وہ کتنا بڑا ہے، کرایہ کا ہے یا اپنا خریدا ہوا ہے، اس گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان تمام لوگوں کے پاس کتنی کتنی گاڑیاں ہیں، ان گاڑیوں کی انشورنس کس کسی کمپنی کی ہے، کس کس کے پاس ذاتی بحری کشتی ہے، اسکی انشورنس کس کمپنی کی ہے، اس شخص کے پاس کتنے پالتو جانور ہیں، اسکی ماہانہ اور سالانہ کتنی آمدن ہے، یہ نوکری کرتا ہے یا اپنا کاروبار کرتا ہے، اگر کاروبار کرتا ہے تو کتنی کمپنیاں اسکے نام پر رجسٹر ہیں ان کمپنیوں کی ورتھ کتنی ہے، یہ شخص سالانہ کتنا ٹیکس دیتا ہے، یہ بلیک لسٹڈ اور کرمینل تو نہیں ہے، یہ شادی شدہ ہے یا سنگل ہے، شادی شدہ ہونے کی صورت میں اسکا پارٹنر کیا کرتا ہے ان سب کی تاریخ پیدائش کیا ہے، انکی تاریخ پیدائش پر اگر کوئی پھول یا گفٹ بھیجنا چاہتا ہے تو تھوڑے سے پیسے کریڈٹ کارڈ سے دینے سے پھول اس بندے کو گفٹ کی شکل میں پوسٹ کردئیے جاتے ہیں، یہ شخص جس گھر میں رہتا ہے اس گھر یا عمارت کی تھری ڈی تصویر آپکے سامنے آجاتی ہے جسے آپ چاروں طرف گھما گھما کر دیکھ سکتے ہیں۔ 

ہر سویڈش شہری کو حکومت کی طرف سے ایک دس عدد ذاتی نمبر ایشو کیا جاتا ہے، جسے پرسن نمبر کہا جاتا ہے، اس نمبر میں اس شخص کی تاریخ پیدائش کے دو عدد، مہینے کے دو عدد اور پیدائش کے سال کے دو عدد  کے علاوہ چار منفرد نمبر ہوتے ہیں جنہیں ایک خاص ریاضی کے طریقے سے شمار کر کے الاٹ کیا جاتا ہے، اس پرسن نمبر کے ذریعے اتنا پتا چل جاتا ہے کہ یہ شخص کہاں پیدا ہوا، کس کس ملک کا شہری ہے، یہ صحت مند ہے یا بیمار ہے، اور اگر یہ بیمار ہے تو اس نے کس کس ڈاکٹر اور کس کس ہسپتال سے علاج کروایا ہے، یہ شخص بلیک لسٹڈ یا کرمنل ہے کہ نہیں، اگر یہ شخص تارکین وطن ہے تو کب پہلی دفعہ یہ سویڈن میں داخل ہوا، کس کس قسم کے ویزے پر اس نے کتنا کتنا عرصہ گزارا، کتنی شادیاں کیں، کتنا پیسہ کمایا، کتنی بچت اسکے پاس جمع ہے، یہ پرسن نمبر پولیس، عدالت، ہسپتال، ڈاکٹر، سکول یونیورسٹی، ٹیکس آفس، غرض ہر جگہ پر سب سے پہلے پوچھا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی کا سویڈن کا ویزہ ختم ہوا ہوا ہو تو ڈاکٹر کے پاس جانے سے ڈاکٹر کو بھی پتا چل جاتا ہے کہ یہ شخص اب سویڈن کا رہائشی نہیں رہا لہذا اسکا مفت علاج نہ کیا جائے۔

سویڈن میں ہسپتال کے اندر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو نرس فوری طور پر جو کام کرتی ہے وہ بچے کے بازو پر ایک نمبر ٹیگ لگاتی ہے جس پر بچے کا پرسن نمبر درج ہوتا ہے، آگے چل کر ساری زندگی یہی پرسن نمبر بچے کی پہچان بن جاتا ہے، بچے کا نام بعد میں والدین سوچ کر رکھتے ہیں، جس میں پہلا نام بچے کا ذاتی، دوسرا اور تیسرا نام ماں اور باپ کے نام کا ایک ایک حصہ ہوتا ہے، عام طور پر سب کے دو نام رکھے جاتے ہیں پہلا اپنا اور دوسرا ماں یا باپ کے نام کا ایک حصہ ہوتا ہے جو فیملی نام بن جاتا ہے، مختلف اشخاص کے نام ایک جیسے ہو سکتے ہیں لیکن پرسن نمبر کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے منفرد ہوتا ہے اور کبھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

سویڈن میں تنخواہیں ہمیشہ بنک ٹو بنک ٹرانسفر ہوتی ہیں، اور ٹیکس خود کار طریقے سے پہلے ہی کٹ جاتا ہے، تقریباً نوے فیصد ٹرانزیکشنز ایلیکٹرانیکلی ہوتی ہیں، لوگوں کو کرنسی نوٹوں کے رنگ اور ڈیزائین تک کا پتا نہیں ہوتا، سب کچھ ڈیجٹس پر چلتا ہے، کھوکھے والے سے لیکر بڑی سے بڑی دوکان پر پیمنٹ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ہی ہوتی ہے، یہاں تک کہ سویڈن میں فقیر اور چندہ مانگنے والے بھی ڈونیشن مختلف ایپلی کیشنز سے بنک میں ٹرانسفر کرواتے ہیں، چھوٹی چھوٹی سمارٹ وائرلیس مشینیں لوگوں کی جیب میں ہوتی ہیں جنہیں اپنے موبائل فون سے لگا کر کسی بھی وقت کریڈٹ کارڈ سے پیمنٹ وصول کر لی جاتی ہے۔ گھر بیٹھے نئی کمپنیاں رجسٹر ہو جاتی ہیں، ٹیکس ریٹرن موبائل فون سے جمع ہو جاتی ہیں، ایف آئی آر گھر بیٹھے رجسٹر ہو جاتی ہے، بسیں کئی اقسام کی ہیں، بجلی سے چلنے والی بسیں سٹاپ پر مسافر اتارتے چڑھاتے وقت خودکار وائرلیس طریقے سے چارج ہو جاتی ہیں، بسوں کے ٹکٹس، جہاز کے بورڈنگ پاسز اور شناختی ثبوت انسانی جلد کے نیچے ایک چِپ کی شکل میں فکس کر دیئے جاتے ہیں اس سے لوگوں کو جیب میں بٹوہ رکھنے سے نجات مل جاتی ہے، سویڈش شہری اپنی روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، یہاں کے لوگ خوشحال ہیں، کرپشن کم ترین سطح پر ہے، شہریوں کے زیادہ تر کام گھر بیٹھے موبائل پر ہو جاتے ہیں، شہریوں کی تمام معلومات انٹرنیٹ پر موجود ہونے کی وجہ سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی اگر کسی کے اثاثے بڑھ رہے ہوں تو شہری متعلقہ اداروں کو پہلے ہی انفارمیشن دے سکتے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی آسان کی ہے وہاں کرپشن بھی ختم کردی ہے۔

آخر میں قارئین سے درخواست کی جاتی ہے کہ راقم کا نام انٹرنیٹ پر ڈال کر چیک کرنے سے گریز کریں، آپکی عین نوازش ہوگی۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں