89

“انگریز کی انگلی” اکسیر ھے🖕🏾 ـ

خان آف قلات  بیمار پڑ گئے، ان کے ذاتی معالج نے پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ ظاھر کیا اور تجویز کیا کہ ان کا ٹیسٹ صرف لندن میں ممکن ہے ، خان آف قلات کے راضی ہو جانے کے بعد انہوں نے لندن میں اس وقت  کے مشہور ماہر سرطان ڈاکٹر جو ان کے استاد بھی تھے ان  سے اپؤائنٹ منٹ لی اور خان آف قلات کو لے کر لندن چلے گئےـ مقررہ دن ڈاکٹر صاحب خان آف قلات کو اپنے ٹریٹمنٹ روم میں لے گئے ، خان صیب باہر نکلے تو کافی پرسکون اور مطمئن تھے ،، پروفیسر صاحب نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پراسٹیٹ کینسر نہیں ، دوسرا مسئلہ  ہے  دوا میں نے تجویز کر دی ہے ، ہدایت کے مطابق استعمال کریں ،، مزید کسی مشورے کی ضرورت پڑی تو فون پہ بھی بات ہو جائے گی ـ

رخصتی سے پہلے پروفیسر صاحب ، خان آف قلات کے ذاتی معالج کو ہاتھ سے پکڑ کر الگ لے گئے اور گلہ کیا کہ مجھے تو تم پر بہت فخر تھا کہ تم میرے شاگردوں میں ذہین ترین تھے ، جب تمہیں مریض کی  پشت میں صرف ایک انگلی دے کر پتہ چل سکتا تھا کہ اس کو پراسٹیٹ کینسر ہے یا نہیں ، تو تم اس کو اتنے پیسے خرچ کر کے اتنی دور لندن میرے پاس کیوں لائے ہو ؟

سر جس جگہ آپ نے اپنی انگلی دی ہے اگر میں   پاکستان میں اس جگہ انگلی  دیتا تو اس خان نے میرا پورا خاندان مروا دینا تھا ، اس لئے مجبورا میں ان کو انگلی دلوانے آپ کے پاس لایا ہوں تا کہ خود کو اور اپنے گھر والوں کو ان کے قہر سے بچا سکوں ،، ذہین خاندانی معالج نے انکساری سے جواب دیا 

قاری حنیف ڈار بقلم خود ـ

نوٹ اس تحریر کا نواز شریف سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن ۔۔۔🤣🤣۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں