57

ایران پر پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ


ایران میں تواتر کے ساتھ امریکہ کے مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں
ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ملک ایسے سخت دباؤ کا شکار ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایرانی صدر کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں نے معاشی صورتحال کو-88 – 1980میں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی حالات سے بھی ابتر بنا دیا ہے۔

صدر روحانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پچھلے ہفتے امریکہ نے جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کو خلیج میں بھیجا ہے۔

صدر روحانی کے بیان کے مطابق اس وقت ملک کے سیاسی؛ ور اقتصادی حالات سازگار نہیں ہیں مگر انہوں نے ملک میں سیاسی قوتوں سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے 2015 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے برقرار رہنے کے بارے میں خدشات ہیں۔
ایران پر دباؤ یہ ہے کہ جب سے امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ہے تب سے صدر روحانی ذاتی طور پر بھی ملک کے سخت گیر حلقوں کے دباؤ میں ہیں۔
امریکی پابندیوں سے ملک میں توانائی، شپنگ اور اقتصادی صنعت مشکلات کا شکار ہیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

نتیجتاً ملک میں سرمایہ کاری نہیں کی جا رہی۔ پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف امریکی کمپنیاں ایران سے کاروبار نہیں کر سکتی بلکہ ایسی غیرملکی کمپنیوں سے بھی کاروبار نہیں کرسکتیں جو ایران کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2019 میں ایران کی معیشت میں چھ فیصد کمی آسکتی ہے۔
پچھلے مہینے امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ ایران بار بار امریکی اقدامات کے خلاف خلیج اومان اور خلیج فارس کے درمیان آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔ یہاں سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ لے جایا جاتا ہے۔

امریکہ یہ چاہتا ہے اور
ٹرمپ انتظامیہ کی بھی یہی کوشش ہے کہ وہ ایران کو نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کرے جس میں نہ صرف ملک کا جوہری پروگرام بلکہ بلیسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہو کیونکہ امریکی حکام کے مطابق اس سے مشرق وسطی کو خطرہ ہے۔جبکہ
امریکہ اپنا پیٹرئٹ میزائیل دفاعی نظام، مشرق وسطی بھیج رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی بی52 بمبار بھی قطر کے ایک فضائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے یہ خطے میں ایران کی جانب سے امریکی فورسز کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ایران نے ان دعوؤں کو رد کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے جوہری معاہدے کے تحت دو وعدوں پر عمل کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اگر اسے پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے 60 دن کے اندر اندر کچھ نہ کیا گیاتویورپی طاقتوں کے مطابق وہ معاہدے پر قائم ہیں لیکن اس کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے ایرانی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں۔
مگر اس وقت ایران کی عوام ان پابندیوں کی وجہ سے اپنی ہی حکومت کے خلاف ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ان کے لئے روزمرہ زندگی کی سہولیات کا فقدان ہو چکا ہے. ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
ندیم عباس بھٹی#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں