59

پاکستانی ایمانی حرارت

پاکستانی مجاہدوں میں ایمانی حرارت ساری دنیا کے مسلمانوں سے زیادہ ہے، یہ حرارت اسلام پر عمل کرنے یا کروانے کیلیئے نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ وسلم اور قرآن کی صرف اوپر اوپر سے تعظیم کرنے پر مبنی ہے، جلا دو مار دو کاٹ دو ختم کردو، یہ الفاظ کسی قسم کی اسلامی بےحرمتی پر اکثر لوگوں سے سننے کو ملتے ہیں، لیکن اگر دنیا کے کرپٹ اور بےایمان لوگوں کی فہرست دیکھی جائے تو پاکستان پہلے پہلے نمبروں میں آتا ہے، قرآن کہتا ہے کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت لیکن پیارے پاکستان میں جھوٹ دل بھر کر خوب بولا جاتا ہے اور اسے کاروبار اور روزمرہ زندگی کا حصہ مانا جاتا ہے، لیکن پاکستانی ایمانی حرارت والے قرآن کو پشت نہیں ہونے دیتے، اسے صبح شام چومتے ہیں، اور جنت کا شارٹ کٹ توہین کرنے والے کو قتل کرنے میں ڈھونڈتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ توہین اسلام اور توہین قرآن کبھی کسی مولوی پر نہیں لگی، حالانکہ ایسی ویڈیوز بھی ہیں جس میں مولوی ایک ہاتھ میں قرآن پکڑے دوسرے ہاتھ سے معصوم بچے کا ہاتھ اپنے آلہ تناسل پر لگا رہا ہوتا ہے، ساتھ قرآن کی تلاوت بھی کررہا ہوتا ہے، میری نظر میں ایک غیر مسلم کے قرآن جلانے سے زیادہ بڑا جرم ایک مسلمان عالم کے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر معصوم بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کرنے میں ہے۔

ناروے میں ایک چھوٹے سے شہر میں قرآن جلانے کا جو قابل نفرت واقعہ رونما ہوا اس واقعہ پر  پہلی چیز جو سمجھنے والی ہے وہ یہ کہ یہ واقعہ ایک غیر مسلم ملک ناروے میں ہوا جہاں مسلمان کل آبادی کے مقابلے میں چار فیصد سے بھی کم ہیں، اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور کسی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، سات آٹھ لوگ یہ مذموم حرکت کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے، جبکہ ڈیڑھ دو سو لوگ اسکی مذمت کرنے کیلئے بھی سامنے موجود تھے، ایک غیرمسلم ملک جہاں کی نناوے فیصد آبادی اسکی مذمت کرتی ہو اور مسلمانوں کے ساتھ ہو وہاں چند شرپسند عناصر اگر ایسی قبیح حرکت کریں تو قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے قانونی دروازہ کھٹکھٹانا چاہئیے تھا، یہ پاکستان نہیں ہے کہ مار دو جلا دو ختم کردو، یہ سب باتیں جذباتی ہیں اور جذبات عقل کے دشمن ہوتے ہیں، اس ملک میں تقریباً دو لاکھ مسلمان ہیں سینکڑوں مساجد ہیں، سب مذہبی آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں، نئے لوگ مسلمان بھی ہو رہے ہیں، ایسے میں مار کٹائی  سے مسلمانوں کا اپنا ہی نقصان ہونا ہے، اگر آپ نبی صلی اللہ وسلم کی مکی زندگی پر نظر ڈالیں تو وہ کونسے مظالم تھے جو نبی پر نہیں ہوئے تھے، انہیں گالیاں دی گئیں، پتھر مارے گئیے ان پر کوڑا پھینکا گیا، ہر طرح کا تشدد کیا گیا، لیکن آپ نے بدلہ لینے کی بجائے سب برداشت کرنے اور اسلام پھیلانے پر توجہ دی، اگر آپ اور آپ کے صحابہ پاکستانیوں والی ایمانی حرارت دکھاتے تو جو مسلمان ہو رہے تھے وہ بھی رک جاتے، تیرہ سال ظلم سہے مگر کچھ نہیں کیا، صرف مسلمانوں کی تعداد بڑھائی، تعداد بھی بہت تھوڑی ہی بڑھی، آخر ناکامی پر اللہ کے حکم سے رات کے اندھیرے میں چھپ چھپا کر مدینہ ہجرت کر گئے ، یہ وہ حکمت تھی جسکی تعلیم نبی صلی اللہ آنے والی نسلوں کو دے گئے، اور وہ تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کو جذبات سے ہٹ کر عقل اور حکمت استعمال کرتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔

آخر میں ایک تلخ حقیقت بیان کرنے کی جسارت کرنا چاہوں گا اور وہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے آج تک سوائے اسلام کے ٹکڑے کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کیا، چودہ سو سال پہلے جن کامیابیوں کا پاکستانی مسلمان کریڈٹ لیتے ہیں وہ عربیوں کی کامیابیاں تھی پاکستانی یا انڈین لوگوں کی نہیں تھیں، اور انہی عربیوں کی موجودہ نسل پاکستان انڈیا کے لوگوں کو غلام سمجھتی ہے اور انہیں جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔ ایک دوسری حقیقت کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ وسلم عربی تھے اور انکی نسل بھی ظاہر ہے عربوں میں ہی آگے بڑھی ہوگی لیکن پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور ایران میں لاکھوں کڑوروں لوگ سید بن کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور انکی نسلیں بغیر کسی قسم کی محنت کیے  بیوقوف لوگوں سے نذرانے لے کر اپنی زندگیاں عیاشی میں گزار رہی ہیں، کیا یہ اسلام ہے، یا اصل اسلام کچھ اور ہے، ذرا سوچیئے۔۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں