55

محبت اب نہیں ہوگی۔ سائیں رحمت

منادی شہر میں کر دو محبت اب نہیں ہوگی
ہوس یا دل لگی ہوگی محبت اب نہیں ہوگی

محبت کی وفاوں کی تمھیں پھر جستجو ہوگی
جسے تم ڈھونڈتے ہو وہ محبت اب نہیں ہوگی


ہوئے بدنام و رسوا ہم فقط تیری محبت میں
ہمیں در در پھرائے وہ محبت اب نہیں ہوگی

ترے آنگن میں برسی تھی جو میرے پیار کی بارش
برستی تھی تیرے گھر میں وہ رحمت اب نہیں ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں