95

سانڈ

ابا کے نزدیک دین کا تصور کیا تھا یہ شاید میں کبھی نہ سمجھ پاؤں کہ وہ دھوکا کسے دیتے تھے، خُود کو، خُدا کو،  خاندان کو یا گاؤں میں خالی کوٹھیوں کی دربانی کو بیٹھے مزارعوں کو۔ابا تمام بڑی مساجد کو چندہ دیتے تھے۔ برطانیہ میں سیرت النبی کے جلوس میں سب سے آگے ہوتے

ابا، جن کو وضو کرنا بھی نہیں آتا تھاجو دوسروں کی دیکھا دیکھی امام کے پیچھے اٹھک بیٹھک کرنا سیکھ گئے تھے پاکستان سے گلوکاروں،  قوالوں اور نعت خوانوں کو سپانسر کرنے میں پیش پیش تھے۔ ان کو بہترین شراب مہیا کرنے میں بھی ابا ہی کی عنایات شامل تھیں۔ 

برلن کے ایک چھوٹے سے لگژری اپارٹمنٹ میں میرے سامنے بیٹھے تھے ۔ سُوٹ بُوٹ اتار کر شلوار قمیض پر عادتاََ اپنا چھوٹا سا بل دار شملہ پہنے میرے ابا ، ملک نُور محمدآج بھی وجیہہ سراپے کے مالک تھے۔

 میں ابا سے پورے بیس برس اور اپنی ماں سے سولہ برس چھوٹا تھا۔ کھاریاں کے ایک نواحی گاؤں سے اٹھ کر لِورپُول  جیسے شہر میں آ بسنے والے ابا نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔میں چار برس کا تھا جب میں اپنی سہمی ہوئی ماں کی انگلی تھامے اس شہر میں وارد ہوا۔ 

ابا ٹرانسپورٹ اور ریسٹورنٹ کے کاروبار کو چلانے میں جُت گئے۔ میری ماں کو مصروف رکھنے کے لیے  اگلے دو سالوں میں دو چھوٹی بہنیں آ گئی تھیں۔ ابا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ میں کس سکول میں جاتا ہوں ۔ ابا کا مسئلہ ہی نہیں تھا کہ ان کے کالے بالوں والے مسلمان لڑکے کو کیا مسائل در پیش تھے۔ ولیم ہنری کویلیام جو  1887میں قبول اسلام کے بعد عبداللہ کویلیام بن گیا اور شہر میں مسجد، سوسائٹی اور سکول کھول کر اسلام کی اشاعت کرنے لگا  ۔ وہ مسلمانو ںکا ہیرو تھا لیکن شہر والوں کی مخفی عداوت ہم جیسی نسل کو بھگتنا پڑتی۔ 

سکول میں تاریخ کی جماعت میں اپنے شوق کے تحت میں یہ کہانیاں پڑھتا۔  مجھے حیرت ہوتی کہ لوگ کیسے اپنا نام، شناخت اور بچپن کی ہر یاد بدل کر نیا رُوپ دھار لیتے ہیں۔ لیکن یہ حیرت اس دن ختم ہو گئی جب میں نے اپنا نام وقار سے بدل کر وِکٹر رکھ لیا۔ میرے بائیں کان میں ننھی سی بالی جھلملانے لگی اور میرے کندھے پر ہاتھ میں سیب تھامے نیم برہنہ عورت کی شبیہہ کا  ٹَیٹُوجھلکیاں دینے لگا۔ ڈارک اینڈ ٹال  وکٹر گوریوں کے دلوں میں دھڑکنے لگا۔

میری ماں اور بہنوں کی زندگی ہم سے یکسر مختلف تھی۔ بہنوں پر ابا شیر کی نگاہ رکھتے تھے ۔ وہ سادہ سے پاکستانی شلوار قمیض میں دوپٹہ اوڑھے سکول جاتیں۔ انہیں گوری ہم جماعت لڑکیوں سے دوستی کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ابا کا بس چلتا تو ان کے کانوں میں روئی ٹھونس کر سکول بھیجتا۔ دسویں جماعت تک تو ہر حال میں انہیں سکول بھیجنا ہی تھا۔ 

میری ماں بھی ابا کی ہم خیال تھیں کہ ان لڑکیوں کو بس لازمی تعلیم دلوانے کے بعد اٹھارہ سال کی قانونی عمر تک پہنچتے ہی بیاہ دیا جائے گا۔ ایک بہن کی شادی ماموں کے لڑکے سے طے پائی اور دوسری کو چچا کے بیٹے کے پلو سے باندھ دیا گیا۔ ابا سرخرو ہو چکے تھے ۔ گائوں میں ابا کے نام کی جے جے کار مچ گئی۔ مجھے اپنے بہنوئیوں سے دور رہنے کا حکم دیا جا چکا تھا تا کہ وہ مجھ سے غلط اطوار نہ سیکھ سکیں۔

 ویسے بھی ایسے گھامڑ  اور آٹھویں جماعت سے بھاگے لڑکوں سے مجھے کیا دوستی رکھنی تھی۔ بس وہ میرے کرتوتوں سے واقف ہو کر باغی ہو جاتے تو ابا کو نقصان ہوتا۔ ابا نے ان بیلوں کو کھوپے پہنانے کے لیے  لانڈری کھول دی اور وہ ابا کی بیٹیوں کا گھر بسانے اور  پیسہ کمانے میں مصروف ہو گئے۔ میری بہنیں سال بعد ہی مائیں بن کر زندگی کے جھنجھٹ میں مکمل طور پر الجھ گئیں۔ عورت بنے بغیر ماں بنا دینے کا حربہ وہ جادو  تھا جس کا توڑ اور بغاوت ممکن ہی نہیں تھی۔ 

ابا قسمت کے دھنی تھے ۔ کاروبار بڑھتا رہا اور ابا نے مجھے جرمنی کی شاخ چلانے کے لیے بھیج دیا ۔ پانچ  چھ برس ہی میں ٹرانسپورٹ اور ریسٹورنٹ کے کاروبار نے قدم جما لیے۔ میرے کاروبار سے عام لڑکیاں اور میرے کھلاڑی حربوں سے خود کو شاطر سمجھنے والی حسینائیں دنوں میں زیر ہو جاتیں۔ 

 برلن میںہی  مجھے یوگو سلاویہ کی حسین ترین لڑکی ناڈا ملی۔ وہ یوگو سلاویہ کے معروف کمپیوٹر میگزین  ریکوناری  Računariکی کور گرل ماڈل تھی۔ بے انتہا حسین تھی لیکن  صرف حسن تو مجھے اسیر کرنے کے لیے ناکافی تھا۔ وہ بے پناہ ذہین اور غیر معمولی طور پر شائستہ اطوار کی مالک تھی۔ اندازِ نشست و برخواست ، گفتگو، ٹیبل ٹاک اور ٹیبل مینرز ، ہر اعتبار سے یکتا تھی۔ چار برس میں اس کی ذات کی مزید صفات عیاں ہوتی چلی گئیں۔ میں نے اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہمارا ایک بیٹا بھی دنیا پر آ گیا جو مکمل طور پر ناڈا کے رنگ و روپ کا پرتو تھا۔ 

ابا کو خبر کرنا پڑ گئی تھی کیونکہ ابا کا مسلسل دبائو بڑھتا جا رہا تھا کہ اب مجھے اپنی ذات اور خاندان میں ہی کہیں شادی کر لینی چاہیے تا کہ ابا کے وسیع کاروبار کا جائز وارث مل سکے۔ ابا کو ناڈا اور ہمارا بیٹا سیموئل قبول نہیں تھا۔ ان کے تبصرے اور مطالبے صرف ظالمانہ ہی نہیں مشتعل کر دینے والے بھی تھے۔ تین مہینے اسی کشمکش میں گزر گئے۔ آخر ایک دن میں نے حتمی فیصلہ سنا دیا کہ اپنے نئے نئے بیدار ہوئے ذوقِ مسلمانی کی تسکین کے لیے میرا نکاح ناڈا سے پڑھوا دیجیے۔ آپ کی تشفی کے لیے ناڈا کلمہ بھی پڑھ لے گی لیکن اپنانام نہیں بدلے گی۔ 

ابا پہلی فلائیٹ لے کر برلن پہنچے ۔ میں دفتر کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں بیٹھا تھا۔ ناڈا سیموئل کے ساتھ اپنی ماں کو ملنے گئی تھی۔ ابا نے چائے پینے سے انکار کر دیا۔ میز پر رکھی پھلوں کی ٹوکری کو ٹھوکر مار کر گرا دیا۔ ان کے مطالبات چھوٹے سے کمرے میں گُونجنے لگے

” اس حرام خور گوری کو پیسہ دے کر چلتا کرو،  چلو مان لیا دوسرے ملک میں بزنس کے لیے گئے ، عورت پسند آ گئی ۔  اتنا و میں سمجھتا ہوں کہ گزارا تو کرنا تھا نا ۔ سرد ملک کی یخ بستگی یا رُوئی سے جاتی ہے یا دُوئی سے۔ بس گزارا کیا”

ابا وہ میرے بچے کی ماں ہے”  میں نے حتی الامکان کوشش کی کہ میرا لہجہ ٹھنڈا رہے 

کیا ہوا جو لڑکا پیدا ہو گیا”   ابا نے اپنی پگڑی  کے  بل کھول کر بے نیازی سے دوبارہ لپیٹے ۔  

“یہ عورتیں بڑی چنڈالن ہوتی ہیں،  بیڑی ڈالتی ہیں  مرد کے پیر میں بچے کی،  بس تُو بھاگ آ واپس، خاموشی سے بتانے کی ضرورت نہیں

کیا کر لے گی؟چند دن رو پیٹ کر نیا کاٹھ کا الو پھنسا لے گی۔ ایسے بچے اور ایسی عورتیں میں نے دیکھ رکھی ہیں ،  پیسہ دے دلا کر اس حرامزدگی سے جان چھڑانا کون سا مشکل کام ہے”۔

میں حیرانی سے ابا کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ میرا بیٹا تھا وہ،  میرے عشق اور وصال کی نشانی۔ ابا جانتے تھے کہ وہ خود  اپنی جوانی کے دنوں میںہمیں مذہب اور اخلاقیات سکھانے میں ناکام رہے تھے۔شراب و شباب کے شو ق میں حلال و حرام کا تصور کہیں دور رہ گیا تھا۔ اس لیے میں اپنے بیٹے کوناجائز نہیں سمجھ سکتا تھا۔ 

“ارے پریشان کیوں ہوتا ہے تو، چار سال تیرے ساتھ رہی،  اسے عیش کروایا  نا، اچھا کھلایا، اچھا پہنایا، یوگو سلاویہ کی فاقہ زدہ حسینہ کو، 

تو بس ٹھیک ہے نا، ایسی ضرورت کی پریت کے دھاگے بس ایسے ہی ٹوٹتے ہیں، ابا کے لہجے میں قطعیت تھی۔

“چل، بہت ہو گیا،  اب تُو میرے ساتھ پاکستان چل،  سیٹ کر لے اپنی زندگی۔ تیس کا تو ہو گیا، اور کتنی دیر دھارے بہیں گے جوانی کے؟ ارے تیری ماں اور میں کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے تجھ سے ۔ بس پاکستان ساتھ چل ہمارے ، خاندان برادری سے لڑکی بیاہ لا، اور وارث پیدا کروا دے۔  بس تیری چھٹی، پھر جو جی چاہے کر تُو، کس کی جرات تجھے پوچھے”۔

اگلے دو دن یہ سرد معرکہ گرم رہا۔ 

ابا کے نزدیک مجھ میں اور ڈیرے پر رکھے سانڈ میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ پھر میں تو شاید ” دیوتائوں کا پرساد،  سانڈ تھا۔ جب جہاں چاہتا منہ مارتا،  کھیتیاں اجاڑتا، ڈکراتا، ڈکارتا پھرتا۔ میری ماں حقائق سے آنکھیں بند رکھنا سیکھ گئی تھی۔ ابا کئی راتیں واپس نہ لوٹتے اور میں رات باہر بِتا کر صبح دم لوٹتا تو ماں کے کمرے سے قران کی تلاوت کی آواز سنائی دیتی۔ مجھ سے صرف سولہ برس بڑی عورت  ماں بن کر سب سہنے اور چُپ رہنے کی طاقت حاصل کر چکی تھی۔اس کا واحد فریضہ میری دونوں بہنوں کی چوکیداری تھا۔ کسی بھی ممکنہ اونچ نیچ سے بچانے کے لیے وہ سائے کی طرح ان کے پیچھے رہتی۔ ان کی آنکھوں کے گرد  چڑھائے گئے اطاعت کے کھوپوں کی ڈوریاں کَس کر باندھتی اور ان کے پیروں کے گرد تیس فٹ کی رسی کو کھینچ کر مضبوطی کا اندازہ کرتی رہتی۔ رسی بس اتنی تھی کہ ابا کے باڑے کی بکریاں چارے اور پانی کے ڈانبے تک جا سکیں۔ 

بچپن میں کسی شادی پر گائوں جانے کا اتفاق ہوا تو دادی مجھے دیکھ کر بِلک بِلک کر رو پڑی۔ کہتے ہیں کہ میں بالکل اپنی اکلوتی پھوپھی کی تصویر تھا۔پھر مجھے کہانی سنائی گئی کہ ایک مرتبہ ابا نے ٹاہلی  کے نیچے پُھپھی کو چوہدریوں کے لڑکے کے ساتھ کھڑے دیکھ لیا تھا۔ وہ منہ سے تو کچھ نہ بولا لیکن  ابا نےآدھی رات کو سوتے میں پھوپھی کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا تھا ۔ روزِقیامت بھی تو اسے بد چلنی کی سزا میں یہی عذاب ملنا تھا۔ 

 دادی نے غم سینے میں دو مُونہے سانپ کی طرح پالا، جو ہر رات اسے بار ہا  ڈستا تھا، صبح دادی زندہ ہو جاتی۔ میں چوری چوری دادی کے سر کی طرف دیکھتا رہتا۔ مجھے لگتا کہ ہر رات دادی کا سَر میڈوسا  کے سر کی طرح بالوں کی بجائے سانپوں سے بھر جاتا ہو گا  اور وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے صدمے سے بے تاب انتقام لینے کا سوچتی ہو گی۔ لیکن ہر صبح دادی بیٹے کے سَر کی خیر مانگتی جاگتی تھی۔ 

مجھے اکثر  فرانس کی مشہور زمانہ غار لاسکو میں دی ہال آف دی بُل، اور اس کی دیواروں پر بنے سانڈوں کی ہزاروں سال پرانی مورت یاد آ گئی۔ میرا عرب دوست اسے ، لاسکو کہف ، کہتا تھا۔ کہف جہاں بیلوں اور کتوں کی تصاویر نمایاں ترین تھیں۔ انسان ابتدا سے ہی یہ فطرت لے کر پیدا ہوا تھا۔افزائشِ نسل او ر خونی کھیل کہیں اجتماعی سماجی شعور میں موجود ہیں اور پھر اپنے اشرف المخلوقات ہونے کازعم خود ساختہ سماج میں عزت یافتہ ہونے کا ٹھپہ بھی اسے درکار ہے۔ غاروں کے زمانے سے نکل کر مذہب کی روشن غاروں میں داخل ہوا تو اسے جنت کا ٹھیکہ بھی چاہیے تھا۔

 ابا بھی اپنے سانڈ کو برادری کے بنائے غار پر ایک مورت کی صورت محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ لندن کے دریائے ٹیمز کو آج بھی سانڈوں کی کربناک لڑائیاں  اور کتوں کی غراہٹیں یاد ہوں گی۔ خونی کھیل جس میں ملکہ الزبتھ سے لے کر ملکہ این تک اسی ذوق و شوق سے شامل ہوتیں جیسے کرائے کے قاتل کو خنجر دے کر کوئی کسی مقتول کی جان کنی کا ہر اذیت ناک لمحہ دیکھ کر  حظ اٹھانا چاہتا ہو۔ 

کھمبے سے بندھے سانڈ کی ناک میں کالی مرچ بھر کے اسے تاؤ دلانا لیکن تیس فٹ کے دائرے تک محدود زنجیر سے بندھا سانڈ جو حملہ آور کتوں سے جنگ کرتا۔یہ کتے اولڈ انگلش بُلڈاگ خاص اس مقصد کے لیے پالے جاتے۔ ملکہ این کے زمانے میں ہفتے میں دو مرتبہ یہ خونی کھیل کھیلا جاتا۔رؤسا جوش میں اچھلتے، داد دیتے، کتوں کا حوصلہ بڑھاتے  اور شرطیں لگاتے۔ سانڈ ناک سے کالی مرچ کی پُھوار اڑاتا غیض و غضب سے بھرا اپنی تھوتھنی بچاتا۔ سانڈ کو بے بس کرنے کے لیے اسے ایک گڑھے میں کھڑا کر دیا جاتا۔ تربیت یافتہ کتے ایک ایک کر کے اس پر حملہ آور ہوتے۔ 

ہسپانیہ کی بیل دوڑ میں سر پٹ بھاگتے سانڈ اور دیوانوں کی طرح پیچھے بھاگتے ہزاروں اشرف المخلوقات انسانوں کی درندگی کا حصہ ہیں۔  پھر حیوانات پر رحم کا زمانہ آیا، سانڈ کی بجائے ڈھائی سو کلو وزنی لوہے کے گولے سڑکوں پر لڑھکائے جانے لگے اور انسان پھر کچلا جانے لگا۔اگر کسی طرح وقت بدلے اور سانڈ انسانوں کو یوں دوڑانے لگیںتو اسے درندگی قرار دیا جائے۔

شمالی ہسپانیہ کے قصبےپمپولانا میں گزارا ہفتہ مجھے انسانوں کی بربریت کا یقین دلانے لگتا۔روم کے اکھاڑوں میں بچھی ریت خون چُوسنے کے لیے بچھائی گئی ارینہ اسی ریت کا نام ہے جو اس خونی کھیل میں انسانوں کا ساتھ دیتی۔

میں اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک ابا کے تمام شوق یاد کرنے لگا۔ خاندانی بُل رائڈنگ اور بُل فائٹنگ میں بھی ابا کا شملہ اونچا  رہتا۔پسندیدہ زمین اور جائیداد کے حصول کے لیے ابا اپنے کسی بھی رشتے دار پر تربیت یافتہ کتا چھوڑ سکتے تھے۔ برطانیہ میں من پسند فلیٹ خریدنے کے لیے ہر طرح سے مالک مکان کو مجبور کر سکتے تھے۔ گزرتے وقت نے گو ابا کو مذہب کا باریک نقاب پہنا دیا لیکن بدل نہیں سکے ۔شاید ابا کو چالیس سال ولایت گزارنے کے بعد بُل بیٹنگ جیسے خونی کھیل کی لت لگ گئی تھی۔ 

ابا کو اپنی نسل کی افزائش کے ساتھ ایک خونی کھیل بھی چاہیے تھا  جس میں انسانوں کی اور بالخصوص کسی بھی عورت کی اہمیت اڑتے پتے سے زیادہ نہیں تھی۔ ابا کے بل ڈاگ ایسی عورت سے زیادہ قیمتی تھے۔ ابا کا خمیر جس مٹی سے اٹھا تھا وہاں گائے ،بھینس، گھوڑے اور پالتو کتے کی جان عورت سے زیادہ اہم تھی۔ بارہ سال کے بعد تو کسی بھی مزارعے کے گھر کی لڑکی اٹھائی جا سکتی تھی اور  تربیت یافتہ کتے اس کی تکہ بوٹی کرتے تو ابا جیسے رئیس اپنی حیوانیت کی تسکین کرتے۔ جیسے کسی بھی سانڈ کی کارکردگی کے مظاہرے کے لیے گڑھے میں کھڑی گائے کو ڈکراتے سننا اندر کے وحشی کو خماربخشتا ہے۔ 

میں جام پر جام پیتا رہا۔ ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔ دادی کہتی تھی رانڈ سانڈ بھانڈ بگڑے ہوئے قابو نہیں آتے۔ کچھ تھا جو میرے اندر لاوے کی طرح کروٹیں لے رہا تھا۔ کچھ تو تھا جو تپش آمادہ تھا۔ صبح ابا اٹھ کر نیچے آئے تو  میں وہیں صوفے پر پڑا تھا۔ 

ابا  بھی بڑے کمرے کے آرام دہ صوفے پر دراز ہو گئے۔ لعنت بھیج اس عورت پر”   ابا کے جملے ایک تربیت یافتہ کتے کی طرح میری تکہ بوٹی کرنے کے لیے بڑھتے۔  

“بچے کا ڈی این اے تو چیک کروا  لے پہلے، ایسی گشتیاں تو ایک بچے کا خرچہ کئی آشنائوں سے وصول کرتی ہیں”

ارے ان سے شادی کون کرتا ہے، جو بے وقوفی کر چکے بہت ہے۔ بس اب جان چھڑا۔ بوریا بستر سمیٹ  اور چل میرے ساتھ واپس، میں تجھے ساتھ لے کر ہی جائوں گا”۔ 

ابا کے نوکیلے دانتوں والے کتے جھپٹتے رہے اور ابا شاید نیند میں چلے گئے۔ 

میں اباکا تیس فٹ کی زنجیر سے بندھا سانڈ تھا۔ میں ابا کا سانڈ ، ٹورو براوہ Toro Bravo اس خون آلود ریت پر کھڑا تھا جو میری پھوپی، ماں اور بہنوں کے نادیدہ خون سے رنگی تھی۔ میرے نتھنوں میں بھری کالی مرچ میرے دماغ تک جاپہنچی  اور خون میری آنکھوں میں اتر آیا۔کتے مجھ پر زقند لگا رہے تھے۔ 

سروائول کا کھیل تھا۔ پھل کاٹنے والی چھری کی دھار چمکی۔ نیم خوابیدہ ابا کی صورت چانک خونخوار بلڈاگ میں بدل گئی ۔ بلڈاگ نے جست بھری۔  میں نے ابا کا خون کر دیا

لیکن نہیں، میں نے نہیں، سانڈ نے ابا کو کچل دیا۔

میں لندن کے تاریخی بیتھلم رائل ہاسپٹل کے ایک کمرے میں نظر بند ہوں۔ میرے مسیحا میرے امراض کی تشخیص میں مصروف ہیں۔ میں جو ایک بہترین طالب علم اور کامیاب ترین بزنس مین تھا ایک خونی اور قاتل کیسے بن گیا۔ عجب صورت حال یہ ہے کہ مجھے حادثے کی تفصیل تک یاد نہیں۔ خوف، پچھتاوا یا احساسِ جرم تک میرے پاس نہیں پھٹکتا۔  میں ڈاکٹر سے اس تاریخی ہسپتال کے بارے میں تحقیقی مواد مانگ رہا تھا تو اس نے غور سے میری جانب دیکھا۔ 

مسٹر ملک ،  کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا جرم سرزد کیا ہے ؟ 

میری حیران آنکھیں اسے  جواب دیتی ہیں یا شاید سوا ل کرتی ہیں۔

 پوسٹ ٹرامیٹک میموری لوس” منتشر شخصیت یا سنگین دماغی دوروں کا شکار خفتہ قاتل۔ جو بھی تھا کسی اندھیر نگری کا باسی تھا جو تاریکی سے ابھرا  اپنے گلے سے غیض و غضب کا طوق اتارا اور دوبارہ اسی پاتال میں کھو گیا۔ 

خوف صرف یہ ہے کہ نجانے کتنے سانڈ اس معاشرے میں انسانوں کی کھال پہنے گھوم رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں