61

صرف عمران خان کا استعفی ہی حل ہے؟؟ عمران اللہ مشعل

مولانا صاحب نے ابھی تک استعفی کے علاوہ اپنا کوئی مستقبل کا لائحہ عمل نہیں دیا صرف ایک استعفی تک محدود ہے اور دوسرے مطالبے سزایافتہ مجرمان اور نیب کے ملزمان کی رہائی کے حوالے سے ہیں۔۔۔

مولانا کا تعلق مذہبی جماعت سے ہے اور جناب اس جماعت کے سربراہ بھی ہیں اسکا بھی استعمال سیاسی مخالفین کے لیے کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے چاہے کسی کو ہندو ایجنٹ ہونے کا الزام دے یا کسی کو یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام دے۔۔۔

کبھی بھی اور ابھی جب سے مارچ شروع ہوا ہے یہ سننے کو نہیں ملا کہ مولانا بتائینگے کہ اس حکومت کو گرا کے وہ اپنا حکومت قائم کرینگے۔۔۔
جس میں مندرجہ ذیل اقدامات ترجیحی بنیادوں پر ہونگے

چور کی پہلی سزا ہاتھ کاٹ دیاجائے گا چاہے بڑا چور ہو یا چھوٹا۔۔

توہین رسالت توہین مذہب اور توہین اصحاب کے مجرم کو سر عام پھانسی ہوگی۔

قتل کرنے والے زنا اور زیادتی کرنے والوں کے سر قلم کر دیا جائے گا۔

عدالتوں میں فیصلے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں ہونگے ورنہ روزانہ کی بنیاد انصاف گھر کی دہلیز پر مل جائے گا۔۔
زرعی ریفارمز لاکر زمینوں کو آباد کرکے غریبوں میں بانٹ دیا جائے گا۔۔

ایک حد سے زیادہ زمین کوئی بھی نہیں رکھ سکے گا۔

مورثی سیاست پر مکمل پابندی ہو۔

ہر کام میرٹ پر ہوگا سارش اور رشوت کلچر کا خاتمہ ہوگا۔۔۔

سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہوگا۔۔

زکوتہ اور ٹیکس نہ دینے والوں کو جیل کی سزا ہوگی اور جائیداد بحق سرکار ضبط ہوگی۔

پولیس نظام بہتر ہوگا۔

ہر نمائندہ عوام کو جواب دہ ہوگا۔۔

اسی طرح دیگر پورا مملکت کے نظام وضح ہو جو مولانا صاحب موجودہ حکومت گرا کے خود آکر نافذ کرسکے۔۔۔

لیکن یہاں ایسا نہیں ہے نہ ہی یہ سب مولانا کے ایجنڈے یا مطالبے میں شامل ہے۔

پہلے ختم نبوت کے نام پر ملین مارچ کیا گیا پھر اسی ختم نبوت کے نام پر چندہ جمع کرکے اسلام آباد کی طرف مارچ اور اب ایک استعفی تاکہ پھر سے دوبارہ نواز شریف یا زرداری مسلط ہوجائے اور مولانا کو بھی اپنا پورا حصہ مل جائے باقی عوام جہاں جیسی تھی ویسے رہے گی۔ نہ اس مارچ سے غریب عوام کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی عام آدمی مستفید ہو سکے گا اگر کوئی مستفید ہوگا تو وہ بلاول ،حمزہ شہباز، مریم صفدر، اسد محمود،لطف الرحمان ، ایمل ولی خان اور اچکزی کے بیٹے ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں