61

پاکستان ٹرین میں آگ کیسے لگی اور اسکا ذمہ دار کون ہے؟ عاصم چوہدری

میر پور خاص سے 2 ڈبے ایک ہی شخص کے نام پر بک کروائے جاتے ہیں جس میں تبلیغی جماعت کے تقریبا 100 سے زائد افراد اس میں شامل ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کا اجتماع میں آنا جانا لگا رہتا ہے وہ جانتے ہیں ہمارے تبلیغی بھائی اپنے ساتھ ضروریات زندگی کی بہت ساری چیزیں لاتے ہیں، جن میں سلنڈر والا چولہا، برتن حتی کہ لوٹا بھی شامل ہوتا ہے۔ سلنڈر والے چولہے عام طور پر کباڑیوں سے خریدے جاتے ہیں اور صرف اسی مقاصد کے لیئے خریدے جاتے ہیں اور پھر باقی سال ان کا استعمال تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔۔جس کی وجہ سے یہ ان موقعوں پر ہی استعمال ہوتا ہے۔ سلنڈر والے چولہوں میں چولہا جہاں سلنڈر کے ساتھ منسلک ہوتا ہے وہاں ایک ربڑ کی واشل ہوتی ہے جو کہ گیس کی لیکج کو روکنے کے لیئے استعمال ہوتی ہے۔۔یہ ربڑ کی واشل کچھ عرصے بعد تبدیل کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ مکمل گھس جاتی ہے۔اور یہ عرصہ عام طور پر 1 مہینہ یا 2 مہینے بتائے جاتے ہیں۔اگر اس کو تبدیل نہ کیا جائے تو گیس لیک ہوتی رہتی ہے۔

ایل پی جی کا مطلب ہوتا ہے لیکوفایئڈ پٹرولیم گیس۔یعنی ایک گیس کو مائع حالت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی چیز کی نیچرل حالت کو تبدیل کرکے اس کو دوسری حالت میں رکھنا ہو اس کے لیئے بڑی فورس اور کنڈیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعتیں ہمیشہ گروپس کی شکل میں رہتی ہیں جن کا ایک امیر ہوتا ہے۔اور ان گروپس میں ایک سلنڈر والا چولہا لازمی ہوتا ہے۔

ریلوے کا ایس او پی ہے کہ کوئی آتش گیر مادہ، چولہا یا سلنڈر آپ ٹرین میں لیکر سفر نہیں کرسکتے۔اگر سفر کرنا بھی ہو تو سلنڈر خالی ہونا چاہیئے۔ ایسے ہی کسی سلنڈر میں سے گیس لیکج ہورہی تھی۔جس کی بو کچھ لوگوں نے محسوس بھی کی۔اس گیس کی لیکج کے دوران کسی دوسرے سلنڈر میں آگ جلائی گئی جیسے ہی آگ جلائی گئی۔گیس پہلے ہی ڈبے میں لیکج کی وجہ سے جمع ہوچکی تھی۔گاڑی کی سپیڈ تیز تھی۔ایسے میں سٹیٹک چارج بھی ڈبے میں سٹور ہوجاتا ہے۔ یہ وہی سٹیٹک چارج ہوتا ہے جس کی وجہ سے آئل ٹینکر کے پیچھے ایک رسی یا زنجیر لٹک رہی ہوتی جس کی وجہ سے ہوا سے ٹینکر جو چارج ہوتا وہ اس زنجیر کی مدد سے زمین میں ارتھ ہوتا جاتا ہے، لہذا یہ سب فیکٹر مل کر ڈبے کو آگ لگانے کے لیئے کافی تھے۔آگ 3 چیزوں کی تکون سے مل کر بنتی ہے۔ درجہ حرارت، فیول اور ہوا۔ ان تینوں چیزوں کا جہاں ملاپ ہوئے آگ لگ جاتی ہے۔یہاں فیول کا کام گیس کے ان سلنڈروں نے کیا۔ہوا بھی موجود تھی اور ہوا کی وجہ سے ٹرین کا ڈبہ بھی چارج تھا۔لہذا تیلی نے آگ پکڑی اور آگ لگ گئی۔تیز ہوا نے پھیلاو کا کام کیا۔اور باقی وہاں سلنڈر ہیٹ کی وجہ سے پھٹ گئے۔کیونکہ ان میں لیکوئڈ گیس تھی جو کہ گرم ہونے سے پھیلی اور پریشر کی وجہ سے سلنڈر پھٹ گئے، لہذا یہ کہنا کہ شارٹ سرکٹ ہوا، یہ ہوا وہ ہوا، سب کہانیاں ہیں۔ یہاں پر ریلوے کا قصور یہ ہے کہ وہ لوگ سلنڈر لیکر ٹرین پر سوار کیسے ہوئے؟ اور دوسرا قصور یہ ہے کہ سیفٹی کا کوئی انتظام کیوں نہیں تھا۔یہ صرف ریلوے کا مسئلہ نہیں۔کسی بڑے روٹ کی بس میں بھی یہ سسٹم نہیں ہے۔کیونکہ پاکستانیوں کے نزدیک کوئی بڑا معاملہ ہی نہیں۔ایویں سیاست چمکانے کی بجائے جس کی وجہ سے یہ کام خراب ہوا اس پر توجہ دیں وہ ہے کہ سلنڈر لیکر بندے ٹرین میں سوار کیسے ہوئے؟ 

عقل سے عاری قوم ہر معاملے پر سیاست کرنا اور سیاست چمکانا شائد اپنا فرض سمجھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں