53

تقریر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنالے۔ راؤ کامران علی

ساحر لدھیانوی سے معذرت کے ساتھ کہ تدبیر کی جگہ تقریر جوڑ دیا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انسانی تاریخ میں آخری جنگ لڑائی سے کیسے جیتی گئی؟ یعنی کہ حملہ آور کی جیت کب ہوئی؟ پورا انڈیا ملکر چند ہزار انگریزوں سے جنگ آزادی نہ جیت سکا اور محض بیس سے تیس سال کی “تقریروں” سے وہ “گریٹ برٹن” جسکا سورج غروب نہیں ہوتا تھا ڈھ گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا اختتام بھی “باتوں” سے ہوا۔ افغانستان جیسے غیر اہم ملک میں پہلے روس گیا اور کام سے گیا اب امریکہ “تقریروں” پر آگیا ہے۔ اٹھارہ سال دنیا کا ہر ہتھیار پہاڑوں پر ٹیسٹ کرکے بھی نتیجہ کیا نکلا؟ جی ہاں محض “ڈائیلاگ”! سعودی عرب، یمن جیسے ننھے ملک کو ہضم نہ کرسکا؛ امریکہ شام پر “تقریروں” پر آگیا! چلیں یہ تو لمبی باتیں ہوگئیں، کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے کہ کمالیہ یا گجرات میں نسلوں کی دشمنیوں میں اگرایک خاندان کے گیارہ بندے دوسرے نے قتل کئے اور جواب میں مقتول خاندان نے قاتل خاندان کے پندرہ بندے قتل کردئیے تو کیا اسکے بعد سب سکون اور خوشی سے رہ رہے ہیں؟ ہرگز نہیں! کسی نہ کسی کو “تقریر” کرنی پڑتی ہے اور پڑے گی یہ خون خرابہ روکنے کے لئے۔

“تقریر” کی ایسی اہمیت کا اصل پتا مجھے 2016 کی ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کمپین میں پتا چلا۔ میں اوہائیو ہسپتال میں سرجری کررہا تھا کہ میری فرسٹ اسسٹنٹ، لنزی،ٹرمپ کی تقاریر کے باعث ہیلری سے اتنی متنفر ہوئی کہ اس کا نام لینے کی بجائے “لائر بِچ” یعنی “جھوٹی ۔۔۔” کہہ کر بلاتی تھی۔ آپریشن کرتے ہوئے باتوں باتوں میں نے اسے بتایا کہ میں ہیلری کو سپورٹ کررہا ہوں تو اس نے غصے سے ہاتھ کھڑے کردئیے اور سرجری اسسٹ کرنے سے انکار کردیا۔مشکل سے اسے منایا اور سرجری مکمل کرنے کے بعد اسے آئندہ اسسٹنٹ لینے سے انکار کردیا۔ اسکی اتنی نفرت انگیز برین واشنگ، ٹرمپ کی تقریروں کا شاخسانہ تھی۔

آخر عمران خان کی تقریر پوری دنیا میں اتنی مقبول کیوں ہورہی ہے اور سوائے پاکستان کی ایک ڈیزلانہ مذہبی اور دو سیاسی جماعتوں کے، سب کے دلوں کو کیوں بھارہی ہے؟ اسکی وجہ ہے پلیٹ فارم؛ پوری دنیا کا سب سے بڑا اور سنجیدہ پلیٹ فارم اقوام متحدہ ہے۔ جب عمران کھل کر سوئس اور کریبین بینکوں کی بات کرتا ہے جہاں پوری دنیا سے لُوٹ کا پیسہ جمع ہوتا ہے تو اسکی گونج دور تک سنائی دے گی۔ عمران تو محض “وسل بلور” ہے ابھی تو افریقہ اور مشرقی یورپ کے لوگ اسی منی لانڈرنگ اور سوئٹزرلینڈکے خلاف  آواز اٹھانے والے ہیں۔ دوسری بات ہے مذہبی تقدس؛ امریکہ کے لوگ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں، اب انھیں کیا پتا کہ ہمارے لئے ہمارے نبی پاک کا ذکر ہولوکاسٹ سے کروڑوں گنا زیادہ عزت سے لینا فرض ہے، یہ ہمارے مذہب اور کلچر کی آگاہی ہے تاکہ پتا چلے کہ سلمان رشدی سے نفرت اگر انتہا پسندی ہے تو ہولو کاسٹ کا مذاق اڑانا بھی جائز ہوگا۔

پھر بات آتی ہے کشمیر کی؛ بات پاکستان کی نہیں انسانیت کی ہے، اگر آٹھ ہزار یہودیوں کے ساتھ ایسا ہو تو دنیا تڑپ جائے، اسی لاکھ مسلمانوں کے ساتھ ہو اور کان ہر جوں تک نہ رینگے؟۔ جب ملک ایٹمی طاقت ہو اور دیوار سے لگایا جائے تو کیا ہو سکتا ہے، دنیا کو اگر نہیں پتا تو پتا چلنا چاہیے کہ پاکستان اور انڈیا کے علاوہ دو ارب لوگ بھوک سے مر جائیں گے اگر ایٹمی جنگ ہوئی۔ دنیا کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں؛ واشنگٹن پوسٹ نے رعنا ایوب کو لے لیا ہے مودی کا بینڈ بجانے کو اور نیویارک ٹائمز نے انڈیا کے کشمیر پر موقف کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہے۔ اتنا “کھلا ڈلا” مواد عمران خان نے متلاشی صحافت کو دے دیا ہے کہ کئی ہفتوں تک اسکا “کھٹا” کھائیں گے اور کشمیر کا ایشو زندہ رہے گا۔ اسکاٹ لینڈ نے عمران کے خطاب کے بعد پولیس آفیسرز کو حجاب کی اجازت دے دی ہے۔ یورپ اور کینیڈا میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دیکر اسّی سال سے زائد عمر کے سارے یہودیوں کے زخم تازہ کردئیے ہیں۔ کم از کم امریکہ کے یہودی مودی کو پسند نہیں کرتے، اسرائیل کا پتا نہیں۔ انڈیا پاکستان کے متوقع “آتنک واد” کا ڈرامہ کررہا تھا کہ خان نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ جب اسی لاکھ لوگ کرفیو سے آزاد ہوں گے تو “بلڈ شیڈ”(خون خرابہ) ہوگا! “بلڈ شیڈ” کے بیباکانہ استعمال پر اقسام متحدہ میں انڈین ڈپلومیٹ کو آگ لگ گئی لیکن  سننے والوں کے کان کے کیڑے جھڑ گئے کہ جو بو رہے ہو وہ کاٹو گے، ہم پر الزام لگانے سے کچھ نہیں ہوگا- مزید برآں اگلے ہفتے امریکہ سے ایک بااثر دوست سیاستدان، پاکستان آرہا ہے اور کچھ ایسے لوگ اپنے ساتھ لا رہا ہے جو میڈیا پر انڈیا کا بینڈ بجائیں گے۔ یہ کھیل انڈیا نے شروع کیا ہے لیکن یہ اسکے گلے کا چچھوندر بن کر رہ جائیگا؛ نہ نگل سکے گا اور نہ اگل سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں