63

کسی کی عزت کا پردہ رکھنا۔ راؤ کامران علی

یہ پاکستان کے کسی سینما گھر کا منظر ہے؛ نائٹ ویو کیمرے سے ویڈیوز بنائی گئی ہیں جن میں مختلف جوڑے بالغانہ حرکات و سکنات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بیک گراؤنڈ کی آوازوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ یہ ویڈیوز سینما میں کام کرنے والے ملازمین نے بنائی ہیں۔ اب یہاں سے دو پہلو نکلتے ہیں

ہوسکتا ہے کہ وہ جوڑے شادی شدہ ہوں، یا نکاح شدہ ہوں؛ ہوسکتا ہے کہ نکاح کے باوجود ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو اور نہ مل سکتے ہوں تو سینما گھروں میں مل رہے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ شادی شدہ ہوں لیکن ازدواجی زندگی میں کچھ نیا پن (spice) پیدا کرنے کے لئے یہ کر رہے ہوں؛ ویڈیوز بنانے والے لچڑوں کی عقل اور اوقات سے یہ بات بہت باہر کی ہے کہ امریکہ کے ہر سینما گھر میں جوڑے یہ سب کر رہے ہوتے ہیں؛ حالانکہ انھیں کوئی روک ٹوک نہیں گھر میں کسی قسم کی بھی؛ تو وہ زمانے سے ڈر کر نہیں بلکہ excitement یا چینج کے لئے کبھی کبھی فلموں کے جذباتی سین کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔

اب دوسرا پہلو ہے جو کہ قرین قیاس ہے کہ وہ سب فیس بک یا گلی محلے کے عشق کا نتیجہ تھا اور سینما میں گل کھلا رہے تھے جو کہ یقیناً غلط ہے لیکن اس سے زیادہ غلط ہے کسی کی غلطی کو پوری دنیا میں پھیلا دینا۔ کون ہے جو فرشتہ ہے؟ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق ان چکروں میں پڑا ہے۔ محض ایک یا دو فیصد ایسے نیک بندے ہوں گے جو سب سہولیات کے باوجود ان سب سے کنارہ کرتے ہوں ورنہ پاکستان کے نوے فیصد مرد حضرات جو سینہ پھلا کے پارسائی کے دعوے کرتے ہیں؛ انکی یا تو شکل ہی ایسی ہے کہ پارسائی کے سوا کوئی چارہ نہیں یا “جگہ” نہیں یا جیب میں اتنی گنجائش نہیں کہ یہ سب افورڈ کرسکیں اور دل ہی دل میں “بامراد” لوگوں سے حسد کرتے ہیں۔ ویڈیو بنانے والے پینڈو کی آواز ہی سن لیں، “میری آلی ملدی نئی پئی” تو گویا دوسروں کی عزت نیلام کردو؟

الّلہ کی ذات لوگوں کا پردہ رکھتی ہے اور یہ الّلہ کی سنت ہے ورنہ ہم سب کے ماتھے ہمارے اعمال سے داغدار ہوتے! کتنے ہی یہ کالم پڑھنے والے شادی سے پہلے ایسے معاملات اور افئیرز سے گزر چکے ہوں گے اور آج توبہ تائب ہوکر بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی مذہبی اور سماجی قوانین کے مطابق گزار رہے ہوں گے؛ ان میں ویڈیوز بنانے والوں کی بہن یا والدہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اپنے زمانے میں ہر کوئی یہ کرسکتا ہے؛ سوچیں اگر آپ سب کی بھی ایسی ہی ویڈیوز بن چکی ہوتیں تو آج کیا ہوتا؟ یہ کبھی نہ معاف ہوسکنے والا گناہ بن جاتا! اس کے طعنے نسلوں تک ساتھ چلتے۔ آج انکے بچے اسکول میں پڑھنے کی بجائے “امی جی، امی جی” کا حساب اور جواب دے رہے ہوتے! اور ایسا ہی ان جوڑوں کے ساتھ ہوگا۔ میں انسانوں میں دولت یا شکل کے باعث تمیز نہیں کرتا لیکن خاندانی عزت، عقل اور تعلیم کے باعث ضرور کرتا ہوں۔ کیونکہ جاہل اور کم عقل دوست ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے اور آگے سے رو کر دکھا دیتا ہے کہ اسکی نیت یہ نہیں تھی۔ نیت گئی بھاڑ میں، دوسرے کی زندگی تو تباہ ہوگئی۔ اسکے بعد ہے خاندانی وجاہت؛ جس انسان کے خاندان کی یا اپنی عزت ہی نہیں وہ تو اپنی ہی اخلاق باختہ فلم کسی لڑکی کے ساتھ بنا کر خود ہی اپ لوڈ کردیگا۔ اگر آپکا افیئر کسی ایسے آدمی یا عورت کے ساتھ ہے جس کے پاس کھونے کو عزت نہیں تو یہ جان لیں کہ بہت جلد آپکے پاس بھی کھونے کو عزت نہیں رہے گی۔

یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ الّلہ کو سب سے پسند ہے دوسرے انسانوں کے ساتھ بہترین سلوک! مغرب زنا کے باوجود ترقی کررہا ہے کیونکہ وہ سب کچھ مرضی سے ہوتا ہے اور جھوٹ دھوکہ دہی کے بغیر ہوتا ہے نہ کہ شادی کے وعدے کرکے کسی کی زندگی تباہ کرکے، بلیک میل کرکے یا کچھ نشہ پلا کر عزت لوٹ کر؛ جب دو لوگ اپنی مرضی سے کچھ کریں تو یہ گناہ ہے اور اسکا تعلق الّلہ کے ساتھ ہے لیکن جب کسی ایک کا استحصال ہو تو یہ ظلم ہے اور قانون اور حقوق العباد کے دائرے میں آتا ہے۔ کسی کا جو پردہ رکھے، کل اسکا، اسکی ماں بہن بیٹی کا رکھا جائے گا۔ سب کو لگتا ہے اسکی بہن، بیٹی فرشتہ ہے لیکن اگر پاکستان کے دو کروڑ لڑکے، لڑکی پھنسانے کا دعوی کرتے ہیں تو وہ لڑکیاں کیا مریخ سے آرہی ہیں؟ اور ان دو کروڑ میں سے پانچ سات ہزار لڑکیوں کی ویڈیو، کسی سینما گھر، کسی کار، باغ کے کسی درخت کے پیچھے بن سکتی ہے؛ بالخصوص  وہ سستے اور بدنام ہوٹل جو “فی گھنٹہ” جوڑوں کو کمرے دیتے ہیں وہ کمرے ایچ ڈی کیمروں سے مزین ہیں اور ان کی ویڈیوز D سے شروع ہونے والے ایک پاکستانی ویڈیو شیئرنگ سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں! کئی شادی شدہ جوڑے اپنی ویڈیوز خود دیکھنے کے لئے بناتے ہیں جو کہ انکا حق ہے لیکن جب انکا موبائل چھینا جاتا ہے تو وہ ویڈیوز اپ لوڈ ہوجاتی ہیں۔ اگر آپ چور ہیں تو کم ازکم وہ ویڈیوز ڈیلیٹ کرکے فون بیچیں! ہوسکتا ہے یہی عمل آپکو مستقبل کے پولیس مقابلے یا فون چھین کر بھاگتے ہوئے ٹرک کے نیچے آنے سے بچا دے! یہی قدرت کے رنگ ہیں! رحم اسی کے ساتھ ہوگا جو دوسروں پر رحم کرے گا؛ جو دوسروں کا تماشہ بنائے گا؛ قدرت اسکے “شو”کے ٹکٹ جاری کرچکی ہے، بس اب اسکے لئے اسٹیج لگنے کی دیر ہے اور جب اسٹیج لگے کا تو اسکی سسکیوں اور آ ہوں پر بھی تماشائی تالیاں بجائیں گے، تب معافی کا وقت گزر چکا ہوگا اور فصل کی کٹائی کا وقت شروع ہوچکا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں