372

شجرممنوع

ہمارے معاشرے میں جنسی موضوع پر بات چیت شجرممنوع میں شمار ہوتی ہے اور حرف عام میں اسے گندی بات کہا جاتا ہے، فطری طور پر انسان کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جس عمل سے حضرت انسان کا ظہور ہوا ہو وہ عمل یا اس عمل کے بارے میں بات چیت گندی بات کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ بات حقیقت کے قریب لگتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مشرقی روایات کے باعث انسان جنسی موضوعات کو عوامی سطح پر سب کے سامنے بیان نہیں کرتا، لیکن اس عمل کو گندا کہنا اور جنسی اعضاء کو گندے اعضاء کہنا کسی طور بھی مناسب بات نہیں لگتی۔

افسوس آج کا انسان گندی نالی کی چاہت کیلئے گناہ پر گناہ کئے جا رہا ہے، ایک مولانا صاحب روانی میں یہ بات کہہ گئے، انکا مقصد شاید کچھ اور  تھا لیکن مجھے یہ فقرہ نہایت عجیب سا لگا، اور میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ جان کی امان پاؤں تو مولانا صاحب سے پوچھوں کہ آپ خود بھی تو اسی راستے سے ہی آئے ہیں، اس وقت وہ جگہ اچھی تھی، اب گندی کیسے ہوگئی ہے؟ انسانی جسم کے تمام اعضاء اپنے اپنے کام کیلئے بنائے گئے ہیں، کوئی اعضاء گندا نہیں ہوتا، بلکہ ہماری سوچ گندی ہوتی ہے، جو ایسا سوچتی ہے، ورنہ جس ہستی کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے، اسکے کچھ اعضاء گندی نالی کی طرح کیسے ہوسکتے ہیں، اور اگر گندی نالی ہی ہے تو تمام دنیا کے انسان اس پر مرے کیوں جارہے ہیں🤔۔

اسی موضوع پر ایک نشست میں بات چیت کے دوران بھورے بالوں والی سویڈش خاتون کے تاثرات کچھ اس طرح تھے، ایشین اور افریقن علاقوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر مردوں کی سوچ نجانے کیوں ہر وقت عورت کے جنسی اعضاء کے گرد ہی گھومتی ہے، حالانکہ عورت کے جنسی اعضاء بھی ناک، کان، منہ، ہاتھوں اور پاؤں جیسے باقی اعضاء کی طرح ہی ہوتے ہیں، ہر عضو کا اپنا اپنا کام ہوتا ہے، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ جنسی عضو کو ہی سوچ کا حصہ بنا لیا جائے، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی شخص اپنی سوچ کا محور ہر وقت کسی خاتون کی ناک کو بنالے اور ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا رہے؟ اگر کسی شخص کی ایسی سوچ ہو تو یقیناً آپ اسے ذہنی بیمار ہی کہیں گے، بالکل ایسے ہی جو شخص ہر وقت خواتین کو جنسی عینک پہنے دیکھتا ہے تو وہ بھی ذہنی بیمار ہی تصور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں