111

کیا پینٹ کوٹ پہننا اسلام میں جائز ہے؟ حنان عارف

یہ تحریر میری ذاتی رائے پر مبنی ہے، کسی کا اس سے متفق ہونا یا نہ ہونا بالکل ضروری نہیں ہے۔ لباس کے بارے قرآن کا ہم سےمطالبہ فقط ستر عورت کا ہے نہ کوئی رنگ متعین ہے اور نہ کوئی لباس اور نہ اس بات کی کوئی تحدید ہے کہ کونسا حصہ کس جانب سے کتنے انچ ہو۔

اور ہوبھی کیسے سکتا ہے کہ جو دین آفاقی  اور آخری ہو وہ تمام انسانیت کو ایک لباس پہننے پر کبھی بھی مجبور نہیں کرسکتا شرع میں جو چیز عموم کے قبیل سے ہو وہ ہمیشہ نرمی کی متقاضی رہی ہے اور اس میں معاشرتی اقدار کا کتنا پاس رکھا گیا ہے جو مزاج شرع سے بخوبی واقف ہیں وہ اس کو بنا کسی حیل وحجت کے تسلیم کریں گے۔

اب  آئیے سیرت کی جانب تو اس میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ جس مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدائش ہوئی اور پلے بڑھے جوانی بھی گزار دی۔ اسی معاشرے میں ابوجہل،عتبہ،شیبہ۔ربیعہ،عقبہ وغیرہم جیسے کتنے ہزاروں لاکھوں دشمن موجود تھے دین کا مخالف ہر دو میں سے دوسرا تھا لیکن انہی کفار کا جو لباس تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی پہنا ہے کہیں یہ نہیں مذکور کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا اصحاب کرام علیہم الرضوان نے اس پر میٹنگ کی ہوں کہ ہمارا لباس کوئی علیحدہ تجویز کریں  ہمیں یہ نہیں پہننا کہ یہ دشمنوں کا ہے۔اور نہ ہی کبھی مکی زندگی میں یہ موضوع بحث رہا۔

یہ تو مکی زندگی تھی اب ذرا مدنی زندگی دیکھیے سن چھ ہجری ہے(گیارہ ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے) اور صلح حدیبیہ میں معاہدہ کی شرائط طے کرنے  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا جارہا ہے اور راستے میں ایک غیر مسلم دوست کہتا ہے حضرت کپڑا(جسے آپ تہبند کہہ لیں) نیچے کرلیں کہ یہاں جس کا نیچے کا کپڑا جتنا نیچےہوتا ہے اسے اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ کا جواب نفی میں تھا۔یہاں ذرا غور کریں کہ وہ جس چیز کا تقاضا کررہا ہے وہ صورت ابھی بھی قدرمشترک ہی ہے بس فرق اونچ نیچ کا ہے۔

اس مختصر بحث کا خلاصہ یہ ہے لباس کا تعلق شرع سے زیادہ معاشرے اور عرف پر ہے اور اس میں وہ زبردستیاں نہیں ہیں جو آجکل بنادی گئی ہیں۔باقی رہ گئی وہ باتیں جو ممانعت میں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ غیر مسلم کی ایجاد ہے یا ان کا شعار ہے یا اس میں ستر نہیں ہے۔

تو عرض یہ ہے کہ محض ایجاد کو لے کر اس کی ممانعت کا قائل ہونا تو محض بیوقوفی ہے اور کچھ نہیں کہ کسی بھی قوم کو کوئی ایجاد حرمت کو چاہتی ہی نہیں وگرنہ دور نہ جائیے ابھی ماننا پڑے گا اس وقت پوری امت حرام کاری میں مبتلا ہے، اور رہا مسئلہ شعار کا تو شعار کسی بھی قوم کا اختصاصی دینی مسئلہ ہوتا جس پر حکما کار بند ہو اور پہلی بات یہاں پر یہ ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ان کے لیے کوئی حکمی مسئلہ ہے اور اختصاص ہونا تو اب بہت دور کی بات ہے کہ یہ لباس اب پورے عالم میں شلوار قمیض کی طرح  ہر شعبے کےمعزز لوگوں کی پہچان بن چکا ہے۔اور رہ گئی بات اعضا کی بناوٹ کے ظاہر ہونے کی تو خدا لگتی بات کہتا ہوں یہ چیز شلوار میں بھی ثابت کی جاسکتی ہے تو پھر اس کو بھی مکروہ اور پتہ نہیں کیا کیا کہنا پڑ جائے گا۔

آپ پوری دنیا سے علماء اور مفتیان کرام کو ایک جگہ جمع لیں جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں سبہی کے اہل علم کو بمع پاکستانی فرقہ واریت کے تمام لوگوں کو کوئی دیوبندی ہو یا بریلوی یا اہل حدیث یا شیعہ اور ایک لائن میں کھڑے کردیجیے اور پھر سبہی کا لباس چیک کریں  ہر دوسرے سے تیسرے کا ڈریس کسی نہ کسی لحاظ سے مختلف ہوگا اور سب اس بات ہر بضد ہوں گے کہ ان کا لباس سنت کے مطابق ہے تو پوچھا جائے کیا بھئی لباس کے بیسیوں تیسیوں طریقے ہیں؟

بلکہ سر پر ٹوپی اور عمامہ کو شامل کرلیں تو ہرایک کی  ایک خاص کیفیت مختلفانہ ہو گی اور یہی سوال یہاں بھی قائم ہوسکتا ہے۔اس لیے یہ میرا کوئی فتوی نہیں بلکہ ذاتی رائے ہے کہ پینٹ کوٹ ایک لباس ہے اور اس کا پہننا درست اور مباح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں