270

سیکنڈی نیوین ممالک میں سیکس فری کا اصل مطلب کیا ہے؟

گزشتہ دنوں سٹاک ہوم میں ایک جگہ پاکستانی اور بھارتی نژاد لوگوں کے اجتماع میں ایک پاکستانی بھائی سے ملاقات ہوئی، جو سویڈن سیر کرنے کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے، باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ جناب سویڈن آ کر کوئی زیادہ خوش نہیں ہوئے، کیونکہ یہاں جھوٹ بولے جاتے ہیں، یہ سُن کر حیرانگی ہوئی کیونکہ سچ بولنا تو سویڈن کی سب سے بڑی پہچان ہے، لیکن ساتھ ہی تجسس میں اضافہ بھی ہوا، ان صاحب سے سویڈن کے جھوٹوں پر استفسار کیا تو صاحب کچھ اس طرح گویا ہوئے، سب سے بڑا جھوٹ تو یہ ہے کہ سویڈن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سیکس فری ملک ہے، جبکہ یہاں سیکس ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا چاند پر آکسیجن ڈھونڈنا۔۔🤣۔

انکا سوال بظاہر بےتُکا اور عجیب سا تھا، لیکن محترم اپنی جگہ سچے تھے، شاید یہاں آنے کیلئے اتنا خرچہ کرنے کے باوجود انکے کچھ خواب ادھورے رہ گئے ہوں، اسلئے وہ سویڈن پر سیخ پا ہو رہے ہوں، خیر وجہ جو بھی ہو، میں نے وضاحت دیتے ہوئے انہیں بتایا کہ سویڈن واقعی سیکس فری ملک ہے، لیکن اس بات کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں، سیکس فری ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خواتین بغیر کپڑوں کے سڑکوں پر پھر رہی ہوں اور جو جب چاہے دل پشوری کر لے، ایسا سویڈن جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں قانون کی حکمرانی ہے، ہر شہری مالی طور پر خودمختار ہے،عملی طور پر ہونا ممکن نہیں ہے۔

سویڈن میں سیکس فری کا مطلب یہ ہے کہ لزبین، گے سمیت تمام جنسوں سے تعلق رکھنے والے افراد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ریلیشن شپ یا تعلق بنا سکتے ہیں، یہ تعلق باہمی رضامندی سے ہونا چاہئیے، پیسے دے کر نہیں، کیونکہ سویڈن میں جسم فروشی قابل سزا جرم ہے اور اگر جسم فروشی ثابت ہو جائے تو دونوں فریقین کو جیل یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہاں خواتین کے اتنے حقوق ہیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی سے بھی بغیر اسکی مرضی سے سیکس کر لے تو شوہر صاحب کو جیل یا جرمانے کی سزا ہوجاتی ہے اور اس عمل کو بھی ریپ میں گنا جاتا ہے، ریپ کے جو اعدادوشمار آپکو گوگل سرچ میں ملتے ہیں، وہ عموماً ایسی جگہوں کے واقعات ہوتے ہیں جہاں مرد و خواتین تنہائی میں یا نائٹ کلبوں میں شراب پی کر مدہوش ہونے کے بعد سرانجام دیتے ہیں اور ہوش میں آنے کے بعد خاتون ریپ کی شکایت درج کروا دیتی ہے، ریپ کی صورت میں خواتین کو ہزاروں لاکھوں کرونے انشورنس کمپنیوں سے بھی کمپن سیشن کی مد میں مل جاتے ہیں، عام حالات میں بچے بچیاں اکیلے سکول کالج جاتے ہیں، خواتین دفاتر جاتی ہیں، عموماً کسی مرد کی جرات نہیں ہوتی کہ کسی خاتون سے ریپ تو دور کی بات ہے، اسے گھور کر دیکھ ہی لے۔ یہاں آپکو ہر وقت خواتین کے چہرے پر مسکراہٹ ملے گی، وہ ہر وقت آپکی مدد کرنے کو تیار ہونگی، خواتین کے آدھے کپڑے پہننے، مردوں سے گلے ملنے، یا ہاتھ ملانے، ہنس کر بات کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر وقت سیکس کے لئے تیار ہیں، یہ اس لئے ہے کہ یہ انکا اپنا کلچر ہے۔ اگر یہاں سیکس اتنا ہی عام ہوتا تو سیکنڈی نیوین شہریوں کے جہاز بھر بھر کر تھائی لینڈ نہ جاتے۔

پاکستانی بھائی کے خیالات کی طرح کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت پیش آئی جب کچھ سال پہلے شامی جنگ کے نتیجے میں تباہ حال شامی سیکنڈی نیوین ممالک میں پنا کیلئے آئے، یہاں عربیوں نے آدھے کپڑوں والی خواتین دیکھ کر جنسی حملے شروع کردیئے، اس مسئلے کے حل کیلئے ناروے اور ڈنمارک میں حکومت کو تمام مہاجرین کیلئے سکولوں میں سپیشل کلاسس کا اجراء کرنا پڑا، جس میں یہ تعلیم دی گئی کہ آدھے کپڑے پہننے، ہنس کر بات کرنے کا مطلب سیکس کیلئے ہاں نہیں ہے، بلکہ یہ انکا اپنا کلچر ہے۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں