254

‏کشمیر اور فلسطین ایک جیسے مسائل رکھتے ہیں۔۔۔ عمیر احمد 

میں ایک عام پاکستانی شہری اور ایک عام سا انسان ہوں، روز دہاڑی لگا کر اپنا گھر چلاتا ہوں، عام پاکستانیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں، میری بات سے آپ سب اتفاق کریں یا میری سوچ آپ کو پسند آئے، یہ ضروری نہیں ہے، ہر انسان کی اپنی سوچ اپنا نظریہ ہوتا ہے۔میرے عام پاکستانی بھائی بہن کشمیر اور فلسطین میں جاری ظلم پر غم سے چور ہیں اس وقت پاکستان کے حکمران جو مرضی سوچ رہے ہوں مگر عوام یہ چاہتی ہے کہ انڈیا کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہ رکھا جائے ان سے تجارت اور ہر قسم کی بات چیت بند کی جائے اور کشمیر میں پاک فوج اتاری جائے ان پر ہونے والا ظلم بند ہو مگر میرے وقت کے حکمران اس وقت بات چیت سے کیس حل کرنے کا سوچ رہے ہیں مجھے اور میرے پاکستان کے عام پاکستانی مسلمان بھائی بہن کو لگتا ہے کہ 70 سال سے ہم بات چیت ہی تو کر رہے ہیں ہر بار ہم پہلے کرتے ہیں اور انڈیا کوئی ڈرامہ کر کے فرار ہو جاتا ہے ہر بار ہمیں ہی پہل کرنی ہو گی ہمارے پاس فوج ہے ہم ایٹمی طاقت ہیں تو ہم ذرا سخت لہجہ کیوں نہیں اپناتے، کیوں ہم دنیا سے ڈر رہے ہیں کسی بھی غیر مسلم نے آج تک فلسطین کشمیر میں ہورہے ظلم کے خلاف کچھ نہیں کیا صرف ایک بیان دیا جاتا ہے اور پھر خاموشی جن کی بہن بیٹی کی عزت نیلام ہو رہی ہو ان کا دکھ کسی کو کیوں نظر نہیں آتا جو جوانی میں بیوہ ہو رہی ہیں اس طرف کیوں نہیں دیکھا جاتا کتنے بیٹے قتل کر دیے گے اب تک کسی کو نظر تک نہیں آتا کیوں آخر مسلمانوں کے خلاف یہ دنیا ایسا سلوک کر رہی ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے، بس آئیں بائیں شائیں کر کے بات ختم پیسا ہضم ہونے والی بات ہو رہی ہے۔

میرے کچھ کم عقل مسلمان آج کل اسرائیل کو ایک ملک ماننے کا راگ لاپ رہے ہیں مگر ان کو نہیں پتا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیا گیا تو کشمیر پر ایڈیا کا قبضہ بھی کل کو ماننا پڑے گا میری اپنے وقت کے حاکم سے گزارش ہے کہ مہربانی کر کے کشمیر کے لئے کوئی سودہ یا کمپرومائیز نہ کریں یہ وقت کشمیری بہن بیٹیوں کے سر پہ ہاتھ رکھنے کا ہے اور آپوزیشن سے گزارش ہے کہ سیاست چھوڑ کہ ابھی ایک پاکستانی بنے کا وقت ہے۔ اللہ پاک آپ سب کی عزت کی حفاظت کرئے اور آپ سب کو حلال رزق دے اور مسلمانوں کی مدد فرمائے آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں