156

انسانی تخلیق

میرے ذہن میں سوال پیدا ھوتا تھا کہ کیا خدا نے انسان کو پیدا کیا ھے یا انسان نے خدا کو تخلیق ( اپنی سوچ میں) کیا ھے ؟

آپ اپنے اردگرد کسی چیز پر غور کریں تو آپ پر انکشاف ھو گا کہ کوئی چیز بھی خود بخود وجود میں نہیں آ سکتی, ان چیزوں کے عدم سے وجود میں آنے کے اسباب ھی دراصل ا نکے خالق کو ظاھر کرتے ھیں اور ہم اس خالق کو بنا دیکھے اور جانے ان چیزوں کے حوالے سے پہچانتے ھیں۔

  کیا انسان جیسی پیچیدہ مگر مکمل مشینری کی تخلیق کو دیکھ کر ہم اس کے خالق کا اندازہ نہیں لگا سکتے؟ 

ہم نے اس خالق کو دیکھا نہیں ھے لیکن اس کی تخلیق کو دیکھ کر اسی حوالے سے ہمارے ذہہنوں میں اس خالق کی پہچان بن جاتی ھے، وہی ایک سب سے بڑی طاقت تصور کی جاتی ھے ۔

  لہذا اس سے اس بات پر ہمارا یقین پختہ ھو جاتا ھے کہ انسان کا خالق اپنی اس تخلیق کی وجہ سے پہچانا جاتا ھے اور اس کا مطلب ھے کہ انسان تخلیق کیا گیا ھے اور اگر تخلیق کیا گیا ھے تو یہ خالق نہیں ھو سکتا لہذا انسان نے خدا کو نہیں بنایا بلکہ خدا نے انسان کو بنایا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “انسانی تخلیق

  1. انسان کی تخلیق پر ازل سے انسان بحث کرتا چلا آیا ہے۔ مکمل اتفاق کبھی بھی انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔ الہامی مذاہب نے اسے ہمیشہ اللہ کی تحلیق قرار دیا ہے۔ لادین معاشروں میں انسانی تحلیق کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا گیا۔ اگر صرف عقل سے ہی کام لینا ہے تو پھر اس بلاگ میں دی گی دلیل ایک اچھی دلیل مانی جاۓ گی۔ ویسے بھی جو محدود انسانی عقل میں سما گیا ، وہ خدا کیوں کر ہوا

  2. ماشاءاللہ صفدر بھائی آپ نے بہت اچھاٹاپک منتخب کیا ہے اور بہت اچھے انداز میں اپنی بات کو واضح کرنے کی بھی کوشش کی ہے اللہ کریم آپ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور آپ کو مزید توفیق دے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں