73

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سویڈش وزیراعظم کے ہاتھوں تاریخی بےعزتی۔۔۔۔

گزشتہ دنوں اساپ روکی نامی امریکی شہری کی سویڈش دارلحکومت سٹاک ہوم میں کچھ لڑکوں کے ساتھ لڑائی ہوگئی، اس واقعہ کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں روکی لڑکوں کو مار رہا ہے، سویڈش پولیس نے روکی کو گرفتار کر لیا ہے، معاملہ اب عدالت میں چلا گیا ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں سے روکی سویڈش جیل میں عدالتی کاروائی کا انتظار کر رہا ہے، عام طور پر سویڈن میں چھوٹے جرائم میں ملوث لوگوں کو جیل میں نہیں رکھا جاتا، جب تک کہ عدالت انہیں جیل کی سزا نہ دے دے، لیکن روکی کیلئے سویڈش پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کرنا فلائیٹ رسک ہے، کیونکہ موصوف سویڈن سے بھاگ سکتا ہے۔

امریکی صدر کا بہت نزدیکی دوست روکی کی ضمانت کیلئے وائیٹ ہاؤس میں مہم چلا رہا ہے، اسکی کوششوں کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سویڈش وزیراعظم سٹیفن لوفوین کو گزشتہ روز فون کیا اور کہا کہ میں امریکی شہری روکی کی ضمانت دیتا ہوں وہ ملک سے نہیں بھاگے گا آپ اسے جیل سے رہا کر دیں، اس بات پر سویڈش وزیراعظم نے جواب دیا کہ سویڈن میں وزیراعظم کو عدالتی معاملات اور پولیس تحقیقات میں دخل اندازی کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن وہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ امریکی شہری اساپ روکی کے ساتھ پورا پورا انصاف ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے ایک ٹویٹ میں سویڈش وزیراعظم کے مدد نہ کرنے کے رویے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے، کہ سویڈن نے افریقی امریکی کمیونٹی کی بےعزتی کی ہے، سویڈن کو امریکی شہریوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئیے۔

اس واقعہ پر سابق سویڈش وزیر خارجہ کارل بلڈت نے امریکی صدر کو ٹوئیٹر پر جواب دیا ہے کہ میرا خیال ہے امریکی صدر کو اب معلوم ہوگیا ہوگا  کہ سویڈن میں قانون کی حکمرانی ہے اور وزیراعظم عدالت اور پولیس کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں