99

سفر نامہ اسرائیل فلسطین کا اندازبیاں دلچسپ اور اس میں پڑھنے کا تسلسل موجود ہے۔ ناول نگار مدیحی عدن

سفر نامہ اسرائیل فلسطین حقیقتی طور پر دل سے لکھا گیا ہے. آغاز سے ہی کتاب پڑھنے کا تسلسل ایسا بندھا کہ ایک دو نشست کے اندر ہی اسے پڑھ کر دم لیا، دو دن سے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں بھی سرزمین اسرائیل و فلسطین سے ہو کر آئی ہوں. یہ لکھاری کا کمال ہوتا ہے کہ وہ بات کو ایسے دلچسپ انداز میں بیان کرے کہ شوق مزید بڑھتا ہی چلا جائے۔

اللہ سے دعا ہے کہ مجھے بھی اس سرزمین کی سیر جلد سے جلد کرنے کا موقع عطا فرمائے۔ سچ بتاؤں تو اس سفرنامہ کو پڑھنے کے بعد میرے اندر اس سر زمین پر جانےکا اشتیاق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے. بس طارق محمود صاحب سے ایک گلہ ہے کہ اس کتاب میں تصاویر اور زیادہ شامل کرتے کیونکہ کئی ایسے مقامات ہیں جن کو پڑھتے ہوئے ان کو ایک بار آنکھ سے دیکھنے کی تمنا پیدا ہوئی تھی۔ یہ کتاب لکھنے پر طارق صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں. اللہ قلم میں اور زیادہ برکت عطا فرمائیں، بات کا اختتام انہی کی ایک دعا سے کرو گی جو انہوں نے مسجد اقصی کے مقام پر مانگی اور جو اسلام اور مسلمان امت کے لیے ایک دردِ دل رکھنے والے مسلمان کی عکاسی کرتی ہے۔

.****القدس شریف یروشلم میں قیام کے آخری دن مسجد اقصیٰ کے تہہ خانے میں موجود اصلی مسجد اقصیٰ کے آخری حصہ میں مانگی گئی دعا کے چند حصے:۔

یااللہ اس پاک مسجد میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں اور نبیوں نے نماز پڑھی ہے، تجھے ان تمام نیک ہستیوں کا واسطہ تمام مسلمان ممالک کو ایک ملک بنا دے، مسلمانوں کو قوت اور یک جہتی عطا فرما، اور انہیں اس بات کی توفیق عطا فرما کہ وہ دین اسلام کے ساتھ ساتھ اپنے اجتماعی فائدے کیلئے اور اجتماعی نقصان سے بچنے کیلئے اپنی عقل، اور منطق بھی استعمال کریں۔ آمین ثمہ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں