169

کوئے جاناں سے جو اٹھتا ہوں تو سو جاتے ہیں پاؤں

کوئے جاناں سے جو اٹھتا ہوں تو سو جاتے ہیں پاؤں

دفعتاً آنکھوں سے پاؤں میں اتر آتی ہے نیند🤔🤔۔

ایک رات دیر تک نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا شاعری پڑھ لی جائے، پہلا شعر وزیر لکھنوی کا نظر سے گزرا، پڑھنے پر تھوڑا مشکوک لگا سوچا فیس بک پر دوستوں سے کچھ مدد لے لی جائے تاکہ پتا چل سکے شاعر اصل میں کہنا کیا چاہ رہا ہے؟؟ میرے نزدیک اس شعر میں شاعر  اپنی جسمانی کمزوری بیان کر رہا تھا، اور ویسے شاعر صاحب کا نام بھی اسکے بڑھاپے کا پتہ دے رہا تھا😜😜۔ کمنٹس میں دوستوں نے اپنے اپنے طریقے سے اس شعر کی تشریح کی، پڑھیں اور خوش ہوجائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ محبوب کے در سے جب بھی میں اٹھنا چاہتا ھوں تو آنکھیں تو کیا پاؤں بھی میرا ساتھ نہیں دیتے اور سو جاتے ہیں یعنی چلنے سے انکار کر دیتے ۔۔۔۔ اس لئے میں (شاعر) عرصے سے محبوب کے در پر ہی پڑا ھوں اور جانا بھی چاہوں تو میرے جسم کے اعضا میرا ساتھ نہیں دیتے ۔۔۔۔ دوسرے اگر میں اپنے محبوب سے جدائی (بے وفائی) اختیار کرنا بھی چاہوں تو اب یہ میرے لئے ممکن ہی نہیں کیونکہ اس پر اب میرا اختیار نہیں رہا۔۔

اس شعر کا ایک اور مطلب بھی ہے کہ شاعر اپنے وطن سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ وہ اس کو اب چھوڑنا بھی چاہے تو اس کے لئے اب یہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔ اس کا جسم بھی اب اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔۔۔۔ اس لئے اب اس کا وطن ہی اس کا ہمیشہ کا مسکن ہے ۔۔۔۔۔

ویسے اس شعر سے شاعر کے بڑھاپے اور جوانی کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔

شاعر کے کہنے کا مطلب ہے کہ محبوب کے گھر منجھی کُرسی کوئی نہیں تھی، لہذا پیراں بھار بیٹھے رہنے کے بعد جب چلا تو پاؤں سو گئے تھے، اور پھر وجود گھمن گھیریاں کھاتا محسوس ہورہا تھا۔

سیدھی سی بات ہے شاعر کو کوئے جاناں سے اٹھتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ پاؤں میں چیونٹیاں دوڑنے لگ پڑتی ہیں اور جکڑ لیے جاتے ہیں۔

شاعر اپنے محبوب کے دیدار کو ترستا ہوا اس کی دہلیز پر بیٹھا بیٹھا بوڑھا ہو گیا اور اس کے پاؤں سن ہو گئے یعنی سو گئے، لیکن اس کا محبوب اتنا ظالم تھا کہ اس نے اسے دیدار نہ بخشا۔

شاعر کو کشتہ گاؤ زبان صبح شام دیں 😂 ہاتھ پیر جان پکڑلیں گے۔

اسکا مطلب ہے شاعر صاحب پاؤں سونے کا بہانہ کر رہے ہیں۔

بظاہر لگ رہا ہے بچارے شاعر صاحب کے پاؤں سو جاتے ہیں لیکن جناب نے کمال خوبصورتی سے اپنا مدعا بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں