faaiq tariq 150

میں نے چوری کرنی ہے

بچوں کے ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں، ان پر جو لکھ دیا جائے وہ اسی کو ہی فالو کرنا شروع کردیتے ہیں، اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ بچوں کے سامنے ہمیشہ اچھی باتیں کرنی چاہئیں کیونکہ بچے جو دیکھتے ہیں وہی سیکھ جاتے ہیں۔

میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ویک اینڈ پر شاپنگ کے دوران بچوں کے کھانے کی چیزیں، آئس کریم، چاکلیٹس، چپس، اور بسکٹس وغیرہ لازمی خرید لوں تاکہ اگلا پورا ہفتہ انہیں گھر سے ہی انکی مرضی کے مطابق چیزیں ملتی رہیں۔

ڈینٹسٹ ہر وزٹ پر سختی سے منع کرتے ہیں کہ بچوں کو چاکلیٹس اور ٹافیاں وغیرہ ہفتے میں صرف ایک دفعہ ہی دیں، اور اسکے فوراً بعد برش کروائیں، ہم ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بچوں کی ضد کے آگے بعض دفعہ ایک نہیں چلتی اور انہیں تقریباً روزانہ ہی انکی پسند کی چیزیں دینی پڑ جاتی ہیں۔

گزشتہ روز میں نے دو دو چاکلیٹس دونوں بیٹوں صائم اور فائق کو دیں اور انکے سامنے ہی باقی چاکلیٹس سے بھرا لفافہ کچن کے اونچے ریک میں رکھ دیا، سب ٹی وی روم میں ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوگئے اور چار سالہ فائق، جسے ابھی ٹھیک طرح سے بولنا بھی نہیں آیا اور وہ اپنی زبان میں سویڈش اور انگلش کے الفاظ اردو سے زیادہ استعمال کرتا ہے، چپکے سے کچن میں گیا اور ڈائننگ ٹیبل سے کرسی کھینچ کر پہلے شیلف پر چڑھا اور بعد میں الماری کھول کر ریک سے چاکلیٹس کا لفافہ نکالا اور شیلف پر ہی بیٹھ کر چاکلیٹس کھانا شروع کردیں۔

تھوڑی دیر بعد جب اسکی غیر موجودگی کا احساس ہوا تو ڈھونڈنے پر موصوف کچن میں شیلف پر بیٹھا ملا، میں نے غصے سے لفافہ چھین کر کسی اور جگہ رکھا اور اسے ڈانٹتے ہوئے ٹی وی روم میں لے آیا، اور سب کے سامنے اسے احساس دلایا کہ وہ چوری کر رہا تھا اور یہ بری بات ہے، اسے چوری کرنے کی بات سمجھ نہیں آئی لیکن رات سونے تک ایک ہی رٹ لگا کر ضد کرتا رہا کہ میں نے چوری کرنی ہے، میں نے چوری کرنی ہے۔۔۔۔😢۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں