128

فیس بکی میراثی

پرانے زمانے میں گاؤں میں مراثی ہوا کرتے تھے، انکا کام گاؤں والوں کی خدمت کرنا ہوتا تھا، کسی کی شادی آ جائے، تو منگنی سے لیکر شادی تک اپنی خدمات مہیا کرتے تھے، دور دراز علاقوں تک (سَدَّا) (invitation) دینے جاتے تھے اور بدلے میں مہمان اسے انعام کے طور پر خوش ہو کر کچھ روپے دے دیتے تھے، جو جتنے روپے مراثی صاحب کو دیتا تھا، مراثی صاحب اتنی زیادہ ہی اس شخصیت کی تعریف کرتے تھے، اسلئے لوگ اپنی پَگ اُونچی کرنے کیلئے بڑھ چڑھ کر اسے پیسے دیتے تھے، تاکہ علاقے میں انکا نام ہو۔

مراثی کی بیوی بچے شادی یا غمی والے گھر میں خواتین کے پاس اپنی خدمات مہیا کرتے تھے اور مراثی خود باہر مردانہ حصہ میں مہمانوں کیلئے اپنی خدمات پیش کر رہا ہوتا تھا، اسکی اِنکم کا سورس مہمانوں اور میزبانوں سے ملنے والی ڈونیشن اور کپڑوں جوتوں کی شکل میں دوسرے تحائف ہوتے تھے۔ جن لوگوں نے علاقے میں نام بنانا ہوتا تھا وہ راہ چلتے مراثی کو بلاوجہ بھی دو چار سو روپے دے دیتے تھے، تاکہ مراثی انکی مشہوری اور خدا ترسی کا ڈھول پیٹتا رہے۔ گندم اور چاول وغیرہ کی سالانہ فصل میں مراثی کو اسکا حصہ مل جاتا تھا، اگر اسکی اپنی بھینس ہوتی تو مراثی صاحب کسی بھی زمیندار کی فصل سے مفت چارہ لے لیتے تھے، اگر اپنی بھینس نہ ہوتی تو کسی بھی گھر سے دودھ اور لسی مفت لینے کے حقدار ہوتے تھے۔

وقت بدلا اور مراثی کا پیشہ معدوم ہوتا گیا اور انکی اِنکم اور عزت بھی بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ لوگ انہیں کتا مراثی جیسے عجیب ناموں سے پکارنے لگے، جس سے انکی نوجوان نسل نے یہ کام چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیا اور یوں یہ پیشہ زوال پذیر ہوگیا۔

انکی جو نسلیں شہروں میں پہنچیں انہوں نے پڑھ لکھ کر اچھی نوکریاں حاصل کیں، کاروبار کئیے اور انکی زندگی میں خوشحالی آ گئی، مگر ان میں سے اکثریت نے لوگوں کی ٹی سی کرنی نہ چھوڑی، اور بات بات پر جھوٹی تعریفوں اور چاپلوسی سے اپنے اردگرد لوگوں کو خوش کرتے رہے۔ ایسے لوگ آج بھی ہمارے اردگرد موجود ہیں اور ان سے تعریفیں کروانے کیلئے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، کیونکہ اس سے انکی عزت نفس ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا چاپلوسی کروانے والے انہیں اچھا کھانا کھلا کر بھی اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔

ایسے لوگ فیس بک پر بھی موجود ہیں، انکی نشانی یہ ہوسکتی ہے کہ یہ لوگ کامیاب اور امیر لوگوں کی بلاوجہ تصاویر لگا کر تعریفوں اور چاپلوسی کے پل باندھ رہے ہوتے ہیں، مزے کی بات ہے اکثر اوقات جن لوگوں کی یہ چاپلوسی کر رہے ہوتے ہیں انہیں خود بھی اس بات کا پتا بعد میں چلتا ہے، چاپلوسی کرنے والے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اس سے انکی اپنی مشہوری ہو رہی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود تو بیوقوف ہوتے ہی ہیں دوسروں کو بھی بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

ایسے چاپلوس فیس بُکی ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، اور ہمیں انکی مدد کرنی چاہئیے، انہیں سمجھانا چاہئیے کہ فضول میں کسی کی تعریفیں اور چاپلوسی کرنے سے انکی اپنی عزت ختم ہو رہی ہے۔ چاپلوسی کرنے والا اور چاپلوسی کروانے والا دونوں لوگ معاشرے کے فضول ترین لوگ ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں