39

چھینک، اسلام اور اہل مغرب کی نظر میں

چھینک آنا ایک فطری عمل ہے اور انسان اپنی ابتدا سے ہی چھینک مارتا چلا آ رہا ہے۔ یہ انسان کی اچھی صحت کی علامت ہوتی ہے ، جب چھینک آتی ہے تو انسان کے دماغ ،کان اور ناک کے راستے صاف ہوتے ہیں، اور جب چھوٹا بچہ چھینکتاہے تو والدین چھینک کو بچے کی تندرستی کی علامت سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدافرمایا کر انکے اندرروح پھونکی، توحضرت آدم علیہ السلام کو فوراً چھینک آئی اورسب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ا لحمدللہ کہا، نبی صلی اللہ وسلم کا فرمان ہے : إنَّ اللّٰہ یُحِبُ العُطاسَ، اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں۔

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں چھینکتے تھے اور چھینک پر الحمدللّٰہ بھی کہتے تھے اور یہ امید بھی رکھتے کہ آپ صلی اللہ وسلم جواب میں یرحمک اللّٰہ فرمائیں گے، لیکن انکے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے آپ ان کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہنے کی بجائے یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ کہتے یعنی اللہ تم کو ہدایت دیں اور تمہارے احوال درست فرمائیں۔

گزشتہ دنوں دفتر میں کام کے دوران ساتھ والے کمرے سے اچانک زور سے چھینک مارنے کی آواز آئی تو ساتھ کام کرنے والے دونوں برٹش گوروں کے منہ سے فوراً بلیس یو (Bless You) نکلا، دو سیکنڈ کے وقفے سے دوبارہ چھینک کی آواز آئی اور پھر دونوں کے منہ سے یہی الفاظ نکلے۔ میرے لئے یہ نئی بات تھی، لہذا پوچھے بغیر نہ رہ سکا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ تقریباً سات سو سال پہلے یورپ اور ایشیاء میں زکام اور چھینکوں کی ایک خطرناک وبا پھیلی تھی جس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے، لہذا اسکی وجہ سے اب جب بھی کوئی بندہ چھینک مارتا ہے یہ فوراً کہتے ہیں بلیس یو، یعنی تم پر رحمت ہو۔

کالی موت (Black Death ) جسے گریٹ پلیک (Great Plaque ) بھی کہتے ہیں، یہ وبا (1351-1347) کے عرصے کے دوران یوریشیاء میں پھیلی تھی جس سے دو سو ملین یعنی بیس کروڑ لوگ ہلاک ہوگئے تھے، اس خوفناک وبا کی وجہ سے یورپ میں لوگ جب بھی چھینک کی آواز سنتے ہیں انکے منہ سے فوراً بلیس یو یعنی تم پر رحمت ہو نکلتا ہے۔

پرانے زمانے میں یوریشیاء یورپ اور ایشیا کے ایک بڑے علاقے کو کہتے تھے جسکے مغرب میں بحرالکاہل، مشرق میں بحیرۂ القیانوس، شمال میں بحیرۂ منجمد شمالی اور جنوب میں بحیرۂ روم اور بحیرۂ ہند واقع ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً ایک لاکھ سال پہلے انسانی آبادکاری شروع ہوئی اور آج یہاں دنیا کی ستر فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس زمانے میں یہ علاقہ تجارت کا گڑھ تھا اور ایشیاء کے ذرخیز علاقوں سے اجناس اور کاٹن پروڈکٹس سلک روڈ کے ذریعے یوکرائن کے علاقے کریمیا سے ہوتے ہوئے یورپ آتی تھیں۔

اس تجارتی راستے کی وجہ سے اس زمانے میں انسانوں کی ایک بڑی نقل و حمل ہوتی تھی، اور وبا پھیلنے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ بھی یہی بنی کہ تاجر اپنا سامان لیکر جس جس علاقے میں بھی گئے اپنے ساتھ اس وبا کے وائرس لیتے گئے، جو بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنتا گیا۔ مسلمان مذہبی فریضہ کے طور پر چھینک مارنے والے بندے پر رحمت بھیجتے ہیں تو غیر مسلم بلیک ڈیتھ کے ڈر سے چھینک مارنے والے پر رحمت بھیجتے ہیں، دونوں کام ایک جیسا ہی کرتے ہیں لیکن انکے محرکات مختلف ہیں۔

چھینکت نہایئے، چھینکت کھایئے، چھینکت رہئے سوئے

چھینکت پر گھر نہ جایئے چاہے سرب سونے کا ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں