334

سویڈن میں ننگے پن کا کلچر

سویڈن میں بچوں کو پہلی جماعت سے سوئمنگ سکھانے کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے، اور ہفتے میں کم ازکم ایک دفعہ ایک گھنٹے کیلئے ٹیچر بچوں کو سوئمنگ پول لیکر جاتے ہیں جہاں سوئمنگ کے بعد انہیں ریفریشمنٹ بھی دی جاتی ہے۔

نویں کلاس بنیادی سکول کی آخری کلاس ہوتی ہے اور جو بچہ سوئمنگ ٹیسٹ پاس نہ کرسکے اسکو سکول پاس کرنے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاتا اور بچہ کالج میں داخلہ لینے کا اہل نہیں ہوتا۔ سوئمنگ ٹیسٹ میں سو میٹر سیدھی اور پچاس میٹر پیچھے کی طرف لگاتار سوئمنگ کرنا ہوتی ہے۔ سکول والے بار بار بچوں کو سوئمنگ کے مفت لیسن دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ نویں سے پہلے پہلے ہر بچے کو سوئمنگ آ جاتی ہے۔ پورے سویڈن میں شاید ہی کوئی ایسا شہری ہو جسے سوئمنگ نہ آتی ہو۔

سوئمنگ پول کے اندر جانے کے دو راستے ہوتے ہیں ایک سائیڈ مردوں اور دوسری عورتوں کیلئے مخصوص ہوتی ہے، اندر جانے پر سب سے پہلے چینجنگ ہال آتا ہے جہاں کوئی چھپنے کی جگہ نہیں ہوتی اور سب اپنے اپنے کپڑے اتار کر الماریوں میں رکھ رہے ہوتے ہیں، یہاں سے ننگے ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور لوگ اپنے بچوں سمیت ننگے یہاں سے اگلے حصے میں جاتے ہیں۔

آگے ایک بڑا ہال آتا ہے جہاں دیواروں پر شاور لگے ہوتے ہیں اور سب وہاں بچوں سمیت ننگے نہا رہے ہوتے ہیں، عورتوں والی سائیڈ پر عورتیں اور بچیاں اور مردوں والی سائیڈ پر مرد اور بچے ننگے نہا رہے ہوتے ہیں، اس ہال کی ایک سائیڈ پر ایک بڑا کمرہ ہوتا ہے جسے انگلش میں SAUNA اور سویڈش میں BASTU کہتے ہیں، اس کمرے میں ایک خاص قسم کا ہیٹر لگا ہوتا ہے، جس پر پانی پھینکنے سے بھاپ نکلتی ہے اور اس کمرے میں اندھیرا ہوتا ہے اور سب بنچوں پر پسینے سے شرابور ننگے بیٹھے ہوتے ہیں، یہاں بندہ زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا کیوںکہ ناک کے اندر نتھنوں پر پریشر محسوس ہورہا ہوتا ہے۔ سویڈن میں سردیوں میں چونکہ سورج بہت کم نظر آتا ہے اسلئے لوگ جسم کو گرمی پہنچانے کیلئے باسطو والے کمروں میں بیٹھتے ہیں۔

سوئمنگ کیلئے آنے والے ہم جیسے مسلمان ٹوائلٹس میں جا کر کچھا پہن لیتے ہیں اور نہانے والے ہال میں کچھے کو تھوڑا کھلا کر کے آگے اور پیچھے اچھی طرح پانی ڈال لیتے ہیں تاکہ مخصوص جگہیں صاف ہوسکیں، ویسے بھی ہم گوروں کی طرح سو فیصد ٹشو استعمال کرنے کی بجائے ٹوائلٹس میں لوٹے کا استعمال کرتے ہیں اسلئے ہماری مخصوص جگہیں گوروں سے زیادہ صاف ہوتی ہیں شاید۔۔۔😀

مسلمان خواتین سوئمنگ کیلئے خاص قسم کے کپڑے پہن لیتی ہیں جو سارے جسم کو ڈھانپ لیتے ہیں اور صرف ہاتھ اور پاؤں ہی نظر آتے ہیں، سر پر بھی ایک مخصوص ٹوپی بال ڈھانپ لیتی ہے۔

باسطو سے نکل کر سب لوگ اپنے اپنے سوئمنگ والے کپڑے پہن لیتے ہیں اور سوئمنگ ہال کی طرف جانا شروع کردیتے ہیں، سوئمنگ ہال میں ننگا جانا منع ہے، یہاں خواتین اور مرد اکٹھے سوئمنگ کرتے ہیں۔ سوئمنگ ہال میں عام طور پر دو قسم کے پول ہوتے ہیں ایک بچوں کیلئے مخصوص ہوتا ہے اور دوسرا بڑوں کیلئے۔

بارہ تیرہ سال پہلے ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں دوسال رہنے کا اتفاق ہوا تھا، پاکستان سے نئے نئے یورپ آئے تھے، گھر کے نزدیک والے سوئمنگ پول کا مہینے کا کارڈ بنوا لیا اور پہلی دفعہ سیکنڈی نیویا کے سویمنگ پول کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا، پہلے دن تو کچھے سمیت شاور ہال سے نہا کر سوئمنگ ہال میں چلا گیا لیکن دوسرے دن وہاں موجود لائف گارڈ نے کچھا اتار کر نہانے کا حکم دے دیا، بس پھر کیا تھا، پاکستانی غیرت نے یہ بےعزتی گوارا نہ کی اور مہینے کا کارڈ ضائع کرنا پڑا۔۔😢

سویڈش سکول میں زبان سیکھنے کے دوران کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی، جس میں پرانے وقتوں میں ایک شخص سفر کرتا ہوا سویڈن آیا اور کسی کے گھر قیام کیا، اس زمانے میں باقی دنیا میں شاید اتنا ننگا پن نہیں تھا، لیکن سیکنڈی نیویا میں اس وقت بھی ننگا ہونے کی پرم پرا موجود تھی، گھر میں موجود ساس، سسر، داماد، بہو، بیٹی اور بیٹے نے مہمان کے ساتھ سوئمنگ کے کپڑوں میں گھر کے باہر جھیل میں سوئمنگ کی اور گھر کے اندر تمام لوگ کپڑے اتار کر ننگ ڈھرنگ باسطو والے کمرے میں بیٹھ گئے، بیچارہ مہمان سانس روکے یہ منظر دیکھتا رہ گیا۔

دس سال پہلے کا واقعہ ہے، ایک پولش دوست کیساتھ کھلے سمندر میں سوئمنگ کرنے کا پروگرام بنا اور گھر کے پاس ساحل سمندر پر چلے گئے، ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ننگا بیچ ہے، پارکنگ ایریا میں گاڑی کھڑی کی اور سارے کپڑے اتار کر گاڑی میں رکھے، اپنا اپنا کچھا پہنا اور ایک ایک تولیہ لیکر ساحل سمندر کی طرف چل پڑے، اس زمانے میں سویڈش زبان کی کچھ زیادہ سمجھ نہیں تھی، اسلئے پارکنگ ایریا میں موجود بڑے بڑے سائن بورڈ نہ پڑھ سکے، جس پر لکھا تھا کہ یہاں سے آگے کسی قسم کا کپڑا پہن کر آگے جانا منع ہے۔

ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ہمیں گھاس اور ریت پر مادر پدر آزاد ننگے لیٹے مرد وزن نظر آ گئے، کچھ بوڑھے لوگوں نے اپنے اعضائے مخصوصہ پر سوراخ کروا کر گول گول سلور اور ایلمونیم کے رنگ پہنے ہوئے تھے، شاید اب یہ اعضاء قابل استعمال نہیں رہے تھے، اسلئے ان سے فیشن کا کام لیا جارہا تھا، خیر یہ انکا ذاتی معاملہ تھا، ہم اردگرد لوگوں سے بےنیاز قانون توڑتے ہوئے کچھوں اور تولیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے، اتنے میں کچھ ناہنجار گورے مردوں نے شور ڈال دیا کہ ہم نے کچھے کیوں پہنے ہوئے ہیں، اتنی دیر میں سمندر نزدیک تھا، پولش نے تو ادھر ہی کچھا اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا اور میں نے پانی میں چھلانگ لگا دی، اور سمندر کے اندر سے کچھا اتار کر باہر پھینک دیا، اس سے ان ننگ ڈھرنگ لوگوں کا کچھ غصہ ٹھنڈا ہوا، ابھی اس معاملے سے نکل نہ پائے تھے کہ میری نظر ایک پچیس چھبیس سالہ بلاؤنڈ خاتون پر پڑی جو ننگ دھرنگ آہستہ آہستہ شیشے کی طرح صاف پانی میں اتر رہی تھی، مجھے اپنے جسم میں ایک سنسنی سی پھیلتی محسوس ہوئی، شائد منظر کی تاب لانا بس میں نہیں تھا، فوراً پانی سے باہر دوڑ لگائی تولیہ لپیٹا کچھا ہاتھ میں پکڑا اور پولشے کو کھینچتے ہوئے گاڑی کی طرف دوڑ لگا دی، راستے میں پھر تولیہ لپیٹنے پر لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دی، لیکن ہم نے گاڑی تک پہنچ کر ہی سانس لیا، وہ دن اور آج کا دن، اس ساحل سمندر کی طرف جاتی ہوئی سڑک پر بھی گاڑی نہیں موڑی۔۔😢

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں