38

زکوٰۃ چور تنظیمیں

آپ محنت مشقت کر کے اپنے لیئے اور خاندان کیلئے رزق حلال کماتے ہیں، اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ پیسے زکوٰۃ، صدقات کی شکل میں غریبوں کو ڈونیٹ کر دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ چاہیں گے کہ آپکی زکوٰۃ کے پیسے سے فلم سٹارز، گانے اور ڈانس کرنے والے اور صحافی لوگ بزنس کلاس میں ہوائی جہازوں کا سفر کریں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہریں، بہترین کھانے کھائیں، یورپ امریکہ کی سیر کریں؟؟؟

یقیناً نہیں چاہیں گے، لیکن بدقسمتی سے آجکل کچھ لوگوں نے مختلف سماجی مسائل پر کئی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں، جو یورپ امریکہ سے لوگوں سے زکوٰۃ اور صدقات کے پیسے وصول کرتے ہیں، اور اس کام کیلئے پاکستان سے گانے والیوں، فلموں میں کام کرنے والیوں، صحافیوں اور مشہور شخصیات کو بزنس کلاس کے ہوائی ٹکٹس دیتے ہیں، انہیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے، یورپ امریکہ کی سیر کروائی جاتی ہے، اور بدلے میں یہ شخصیات اپنی عیاشی کے خرچے پورے کرنے والی تنظیموں کیلئے لوگوں سے زکوٰۃ اور صدقات کے پیسے مانگتے ہیں اور یہ گارنٹی دیتے ہیں کہ مذکورہ تنظیم بہت ایماندار ہے اور وہ واقعی آپکی زکوٰۃ کے پیسے ٹھیک جگہ پر لگا رہی ہے، آپ جوش میں آ کر لاکھوں روپے مشہور شخصیت کے کہنے پر اس تنظیم کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں، جبکہ ان پیسوں سے نہ صرف مشہور شخصیت کی عیاشیوں کے پیسے پورے ہورہے ہوتے ہیں بلکہ تنظیم چلانے والے لوگوں کے گھر کے تمام اخراجات اور انکے اپنے فائیو سٹار ہوٹلوں اور بزنس کلاس ہوائی جہازوں کے ٹکٹوں کے اخراجات بھی پورے ہورہے ہوتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی تنظیمیں بنا کر چیرٹی کے نام پر پیسے اکٹھے کرنا اور ساتھ میں پاکستانی مشہور فلم سٹارز اور گانے والیوں کے ساتھ وقت گزارنا، خود بھی عیاشی کرنا اور انکو بھی عیاشی کروانا اور سال میں دو تین ایسے فنکشن کروا کر سال بھر کیلئے اپنی عیاشی کے پیسے بھی جمع کر لینا، بہت منافع بخش اور آسان کام ہے، اور یورپ امریکہ میں رہنے والے کئی لوگ خود کو امیر کبیر ظاہر کر کے یہ کام بہت خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔

ان چھوٹی تنظیموں کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا اور یہ لوگ اکٹھے کئیے گئے کچھ پیسوں سے چیرٹی کے کام بھی کر دیتے ہیں اور اسکی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو بتا سکیں کہ یہ لوگ کتنا اچھا اور نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ آپ کی زکوٰۃ کے صحیح حقدار آپکے غریب رشتہ دار ہیں پھر پاکستان میں موجود آپکے محلے دار اور وہ نزدیکی لوگ جنہیں آپ جانتے ہیں، یاد رکھیں اپنی زکوٰۃ اپنی نگرانی میں خود دیں یا خود دلوائیں اور اس معاملے میں کسی دوسرے پر اعتبار نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں