63

ذہنی سکون

سویڈن یورپ کا ایک نسبتاً خوشحال ملک ہے اور نارتھ پول کے بالکل نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں دن رات کے اوقات باقی دنیا کی نسبت مختلف ہوتے ہیں۔ سردیوں میں لمبی راتیں اور دن بہت مختصر ہوتے ہیں جبکہ گرمیوں میں لمبے دن اور مختصر ترین راتیں ہوتی ہیں۔ یہاں جتنا معاشی ترقی میں اضافہ ہو رہا ہے اتنا ہی لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں۔ یہاں کوئی کسی کا مذہب نہیں پوچھتا بلکہ لوگ اسے نجی زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں۔

سویڈن میں حکومتی معاشی مدد اور ٹیکسوں کے منصفانہ نظام کی وجہ سے پورے ملک میں کوئی بھی غریب اور بے گھر نہیں ہے، کسی کو تعلیم، علاج، مناسب خوراک اور انصاف کے حصول میں کوئی دشواری نہیں ہے اور حکومت اپنے شہریوں کو تعلیم، علاج اور انصاف مفت فراہم کرتی ہے۔

سردیوں میں لمبی اور اندھیری راتوں، بہت زیادہ سردی اور سورج کی روشنی کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں اور دفاتر تک محدود ہو جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی زندگی کیلئے ایک نعمت ہے اور اسکے بغیر لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسی لئے نارتھ پول کے اردگرد رہنے والا ہر دوسرا بندہ اپنی بنیادی خوراک کے علاوہ وٹامن ڈی کی ٹیبلٹ کھا رہا ہوتا ہے۔ بچوں کو پیدا ہوتے ساتھ ہی وٹامن ڈی کے قطرے دودھ میں ڈال کر پلائے جاتے ہیں۔

موسم بہار کے آغاز پر لوگ کام کاج کے علاوہ بھی خوشی خوشی گھروں سے نکلتے ہیں، سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، آدھے کپڑے پہنتے ہیں تاکہ جسم میں زیادہ سے زیادہ دھوپ جذب ہو سکے، ہوٹل، شراب خانے اور کیفے سینٹرز آباد ہوتے ہیں، کچھ لوگوں میں جہاں نئے تعلقات بنتے ہیں، وہاں پرانے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔

زندگی کی اس گہما گہمی میں کچھ لوگ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں، مذہب سے دوری اور شدید تنہائی کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسم بہار میں سویڈن میں خودکشی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

پچھلے بیس سالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جہاں 45 سے 64 سال کی عمر کے لوگوں میں خودکشی کا رجحان بڑھا ہے وہاں 15 سے 24 سال کے لوگوں کے خود کشی کرنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دس ملین آبادی کے اس ملک میں 2013 میں 45 سے 64 سال کی عمر میں 577 اور 15 سے 24 سال کی عمر میں 176 لوگوں نے خودکشی سے اپنی زندگی کا اختتام کیا۔ وہ معمر افراد جو زیادہ تنہائی کا شکار ہیں اور خود کشی کے بارے میں سوچتے ہیں انکی مدد کیلئے حکومت نے سوشل ورکرز کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں جو ایسے لوگوں کے گھروں میں آدھے گھنٹے تک کے لئے جاتے ہیں ان سے بات چیت کرتے ہیں جو انکی تنہائی کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے اور حکومت اس کام کے پیسے دیتی ہے۔ ٹین ایجرز کو سکول کالج کے اوقات کے علاوہ اولڈ ہاؤسز میں معمر افراد کے ساتھ صرف بات چیت کرنے بھیجا جاتا ہے، جس سے معمر افراد کی تنہائی کم ہوتی ہے اور حکومت ٹین ایجرز کو گھنٹے کے حساب سے پیسے دیتی ہے جس سے طالبعلموں کو کچھ ایکسٹرا مالی امداد بھی ہوجاتی ہے۔

گزشتہ روز دفتر میں ساتھ کام کرنے والے بلغاریہ کے ایک صاحب سے ذہنی سکون کے حوالے سے بحث ہوئی۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری ہونے کے باوجود بعض اوقات ذہنی سکون حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ میرے پاس اسکا جواب مذہب اور اللہ کے ذکر سے دوری تھا۔ موصوف بعض اوقات چرچ جاتے ہیں اور پادری کا بائبل سے پڑھا گیا بیان بھی سنتے ہیں مگر ذہنی سکون کے حوالے سے پریشان ہیں۔

ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کے حوالے سے میں نے اسے قرآن کی سورۂ رعد کی آیت نمبر28 پڑھ کر سنائی جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔”

سٹاک ہوم کی عائشہ مسجد میں موجود سویڈش امام مسلم ہر جمعہ کو شام چھ بجے مسجد میں اللہ کا ذکر کرواتے ہیں اور بہت سارے سویڈش لوگ وہاں ذہنی سکون اور قلبی اطمینان حاصل کرنے جاتے ہیں۔ ذکر الہی کی اس پاک محفل میں میں نے اسے مدعو کیا ہے اور یہ گارنٹی دی ہے کہ اس نے اپنے دماغ میں موجود سب سوچ وچار اور پریشانیاں اللہ کے حوالے کرنی ہے اور سچے دل سے امام صاحب کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا ہے اور ایسا کرنے سے اسے یقیناً ذہنی سکون اور قلبی اطمینان حاصل ہوگا۔ واللہ علم

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں